26/09/2017


فِکشن میں برملا اظہار فن کو مجروح کرتا ہے : پروفیسر انور پاشا

جے این یو میں شموئل احمد کی افسانہ خوانی اور فکشن پر مذاکرہ

عہدِ حاضر کے ممتاز فکشن نگار شموئل احمد نے جے این یو کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں اپنا افسانہ ’’ لنگی ‘‘ پیش کیا۔ شموئل احمد ’گرداب ‘ ’مہاماری‘ ’ ندی ‘ اور ’ اے دل آوارہ ‘ جیسے مشہور ناولوں کے خالق ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔ سنگھار دان جیسے افسانوں کے حوالے سے کافی بحث ہو چکی ہے۔ پروگرام میں سب سے پہلے ڈاکٹر شفیع ایوب نے مہمان کا استقبال کیا اور سینٹر کے سینیئر اساتذہ خصوصاً پروفیسر انور پاشا اور پروفیسر خواجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بڑے ادیبوں اور شاعروں کو جے این یو آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اردو ہندی کے طالب علم اور ریسرچ اسکالر اپنے محبوب شاعروں ادیبوں کو اپنے سامنے دیکھتے ہیں اور خود ان کی زبانی ان سے ان کا کلام سنتے ہیں یا افسانہ سنتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پوفیسر پاشا اور پروفیسر خواجہ اکرام کی کوششوں سے افسانہ نگار پروفیسر حمید سہروردی، مقبول ناول نگار پروفیسر عبد الصمد، ماجھی ، شوراب، پانی ، کینچلی اور فسوں جیسے ناولوں کے خالق پروفیسر غضنفر اور مقبول ناول نگار مشرف عالم ذوقی جیسے فنکار جے این یو تشریف لائے اور اپنا افسانہ پیش کیا۔ ریسرچ اسکالرس کے ساتھ بہت کار آمد مذاکرہ ہوا۔ ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے سابق چئیرپرسن  اور فکشن تنقید کے حوالے سے امتیاز رکھنے والے نقاد پروفیسر انور پاشا نے شموئل احمد کا مختصر تعارف پیش کیا۔ اور معاصر فکشن میں موضوعات کے تنوع کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس کے بعد ناظم جلسہ ڈاکٹر شفیع ایوب نے شموئل احمد کو افسانہ خوانی کے لئے آواز دیا۔ شموئل احمد نے اپنا افسانہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں پیش کیا۔ تعلیمی اداروں میں استحصال کے موضوع پر لکھے اس افسانے کو ریسرچ اسکالرس نے بغور سنا۔ افسانہ خوانی کے بعد طلبہ اور اساتذہ نے بحث میں حصہ لیا۔ طلبہ کی جانب سے سلمان ، رکن الدین، امتیاز الحق، شہباز رضا، توصیف حیدر، ڈاکٹر سعید احمد، رحمت یونس وغیرہ نے سوالات کئے۔ اساتذہ میں پروفیسر خواجہ اکرام ، پروفیسر دیوندر چوبے، پروفیسر انور پاشا، پروفیسر اخلاق آہن، ڈاکٹر توحید خان اور ڈاکٹر ابو بکر عباد نے شرکت کی۔ پروفیسر انور پاشا نے ہر طرح کے استحصال کو سماج کے لئے بدنما داغ قرار دیا۔ اور خصوصاً تعلیمی اداروں میں کسی طرح کے استحصال کی پر زور مزمت کی۔ ڈاکٹر محمد توحید خان نے بھی استحصال کی تعریف کو لیکر کئے گئے سوالات کا جواب دیا۔دہلی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ابو بکر عباد نے منٹو اور شموئل احمد کے افسانوں میں جنسی مسائل کے نوعیت پر گفتگو کی۔ پروفیسر انور پاشا نے افسانے کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ادب میں برملا اظہار اور رمز و کنایا کی اپنی اہمیت ہے۔ اخباری بیان اور ادبی فن پارہ ایک نہیں ہو سکتا۔ فکشن میں علامتیں اگر اس قدر پیچیدہ ہوں کہ ترسیل و تفہیم کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو بھی ادب تخلیق کرنے کا مقصد حل نہیں ہوتا اور اگر سپاٹ بیانیہ ہے تو فکشن کے اخباری بیان بن جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ 





دیگر خبروں

2
3
4