25/09/2017


پرگتی شیل مزدور جن کلیان سیوا کی جانب سے اردو زبان اور پاپولر ادب کے موضوع پر یک روزہ قومی سمینار کا انعقاد

مقبول عام ادب کی اہمیت و افادیت سے انکار ناگزیر ہے: پروفیسر خالد محمود


نئی دہلی/ 11 مارچ۔معروف سماجی تنظیم پرگتی شیل مزدور جن کلیان سیو(رجسٹرڈ) آزادپور اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ، حکومت ہند کے اشتراک سے ہوٹل ریور ویو، اوکھلا، جامعہ نگر، نئی دہلی میں یک روزہ قومی سمینار بعنوان ’’ اردو زبان کے فروغ میں پاپولر ادب کا کردار‘‘منعقد کیا گیا۔سمینار میں اردو زبان و ادب اور فکشن کی معروف اور اہم شخصیات نے شرکت کی اور اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔سبھی مقررین نے اردو زبان میں پاپولر ادب کی اہمیت پر بے حد پرمغز گفتگو کی اور اردو میں ایسے موضوع پر سیمنار کے لیے سماجی تنظیم کو مبارکباد دی۔

A Seminar on Role of Popular literature in promotions of Urdu language 

سیمینار کا آغاز سید شاب نسیم کے خیرمقدی کلمات سے ہوا۔ انھوں نے تنظیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس موضوع پر سیمینار کرانے کی غرض و غایت بیان کی۔ساتھ ہی تنظیم کی گزشتہ برسوں کی حصولیابیوں اور کامیابیوں کی تفصیلات بھی پیش کی۔سیمینار کے مہمان خصوصی معروف فکشن نگار جناب مشرف عالم ذوقی نے کہا کہ پاپولر ادب ادب عالیہ سے الگ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک اہم اور اٹوٹ حصہ ہے۔کیا ہم ابن صفی، اے آر خاتون، رضیہ بٹ، واجدہ تبسم،عارف مارہروی اور اس طرح کے دوسرے ناول نگاروں کی خدمات سے انکار کر سکتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو میں اس طرح کا ادب بھی تخلیق کیا جائے تاکہ اردو کا عام قاری اردو زبان سے جڑ سکے۔مقبول فکشن نگار اور صحافی جناب نند کشور وکرم نے اس موقع پر کہا کہ پاپولر ادب کے موضوعات پر یونیورسیٹیوں میں تحقیق ہونی چاہئے۔ ابھی بھی کئی تخلیق کار ایسے ہیں جن کی خدمات بہت ہیں۔ ہم ابن صفی، منشی تیرتھ رام فیروزپوری کے عالوہ اور کتنے ادیبوں کو جانتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اہم ایسے ادیبوں کی خدمات کو منظر عام پر لائیں۔۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ پاپولر ادب کے زمرے میں ناول، افسانے، ڈراما اور لوک گیت بھی آ سکتے ہیں۔ آج شادیوں میں جو گیت گائے جاتے ہیں وہ بھی مقبول عام ادب کے زمرے میں آئیں گے کیوں کہ وہ بھی آج پاپولر ہیں۔پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ پاپولر ادب پر سیمینار آج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم میر و غالب پر تو سیمینار کراتے رہتے ہیں لیکن اردو زبان کے فروغ میں پاپولر ادب کے کردار پر بھی گفتگو ہونی چاہئے۔افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ مقبول عام ادب کی اہمیت و افادیت سے انکار ناگزیر ہے۔اس اجلاس میں ڈی ڈی نیوژ (اردو)کے سابق ڈائرکٹر ادریس احمد خان،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،ڈاکٹر ریحان حسن(امرتسر)،نصرت امین اور فردوس احمد میر(جموں کشمیر) نے مقالے پڑھے۔پہلے سیشن کی نظامت اپنے خوبصورت انداز میں جے این یو ( ماس میڈیا )کے استاد ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی۔

ظہرانے کے وقفے کے بعد دوسرے اجلاس کی صدارت سائنس کے معروف صحافی محمد خلیل، سماجی کارکن بادل خاں اور ساہتیہ اکادمی کے ترجمہ ایوارڈ یافتہ معروف صحافی و ناقد جناب حقانی القاسمی نے کی۔اس سیشن میں پاپولر ادب سے متعلق مختلف موضوعات پر ڈاکٹر شفیع ایوب،ڈاکٹر مسرور صغریٰ،انجم پروین، صالحہ صدیقی،عمران عاکف خان،سفینہ بیگم، تسنیم بانو،شہناز رحمان، فلاح الدین فلاحی،روبینہ تبسم،رضوان خان اور محمد ظہیر(پٹیالہ) نے مقالے پڑھے۔اس اجلاس میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوے جناب حقانی القاسمی نے کہا کہ پاپولر ادب آخر کیوں پاپولر ہے اور اردو کے عام قاری تک اس کی کس طرح رسائی ہوتی ہے اس پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔ مقبول عام ادب آج اردو زبان و ادب کا اہم حصہ ہے ۔ اردو میں نکلنے والے ڈائجسٹوں اور مختلف رسالوں نے اردو زبان کے علاوہ ادب کی بھی بڑی خدمت کی ہے۔ ایسے موضوع پر مزید سیمیناروں کی ضرورت ہے۔سائنسی صحافی محمد خلیل نے کہا کہ اردو میں سائنس لکھنے والوں کی کمی ہے اس سمت میں بھی توجہ دینا چاہئے۔ سیمینار تو ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور اردو کو کس طرح آگے لے جایا جاسکتا ہے۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر ریحان حسن نے کی۔
سیمینار میں ماہنامہ آجکل کے سابق مدیر شہباز حسین،این آئی او ایس بھوپال کے ڈپٹی ڈائرکٹر شعیب رضا خان وارثی،چوتھی دنیا ہفتہ وار کی مدیر ڈاکٹر وسیم راشد کے علاوہ جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔





دیگر خبروں

2
3
4