26/09/2017


مشاورت نے ایرانی ایٹمی معاہدہ کا خیر مقدم کیا

نئی دہلی:  آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ایران کے متعدد مغربی ممالک بشمول امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کا خیر مقدم کیا۔ صدر مشاورت ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ یہ سالہاسال ظالمانہ عقوبتوں کے خلاف انصاف اور کامن سنس کی فتح ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عقوبتیں بالکل غلط اور غیر قانونی تھیں کیونکہ ایران نے ایٹمی طاقت کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدہ (این پی ٹی) پر دستخط کر رکھا ہے جس کے تحت بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ۸۰۰ کیمرے دن رات ایران کے جوہری تنصیات کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ مزید براں ایران نے اعلی ترین سطح پر بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ نہیں بنانا چاہتاہے بلکہ امن پسند طور سے ایٹمی طاقت کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ یہ سارا مسئلہ اسرائیل نے اٹھایا تھا جو بذات خود مشرق وسطی کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس کم از کم ایک ہزار ایٹمی بم موجود ہیں۔ مزید برآں اس نے ۱۹۷۳ میں مصر کو ایٹم بم سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ مشرق وسطی میں اگر کو ئی ملک ہے جس کو ایٹمی مسئلے کی وجہ سے عقوتبوں کا سامنا کرنا چاہےئے تو وہ اسرائیل ہے جو مسلسل این پی ٹی پر دستخط کرنے سے انکار کرتاہے اور اس نے اقوام متحدہ کی مشرق وسطی کو خطرناک اسلحوں سے خالی کرنے کی مہم کو ناکام بنا رکھا ہے۔





دیگر خبروں

2
3
4