26/09/2017


میرے عزیز دوستو ! سلمان بھائی تک میرایہ خط پہونچا دینا /رویش کمار

رويش کمار

سلمان خان کے نام رویش کمار کا کھلا خط

سلمان بھائی،

1989 کی کوئی دوپہر ہوگی، جب پٹنہ میں 'میں نے پیار کیا' فلم 'دیکھ کر نکلا تھا۔ ایک سال پہلے عامر خان کی فلم 'قیامت سے قیامت تک' آ چکی تھی۔ وہ فلم بھی میں نے ایسے ہی اچانک دیکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دو سال میں دو ہیرو ملے تھے مجھے۔ عامر خان اور آپ۔ میری زندگی کے سفر میں آپ کی فلمیں بھی شامل ہوتی چلی گئیں۔ 1991 میں جب 'ساجن' آئی تو میں دہلی آ چکا تھا۔ آپ تب تک پردے پر شرمیلے سے ہی نظر آتے تھے۔ بہت شرمیلے انداز میںکچھ کہتے تھے اور جب نہیں کہہ پاتے تھے تو آپ کا جسم بولنے لگتا تھا۔ چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی تھی، جہاں نہ کہہ پانے کی تڑپ سنیماہال کے اندھیرے میں بیٹھے ناظرین کو ساتھ لے لیتی تھی۔ آپ کے دیکھنے میں ایمانداری تھی اور بولنے میں تنہائی اور ٹھہراؤ۔

سال 1994 میں آئی 'ہم آپ کے ہیں کون' بھی پسند آئی تھی۔ 'ہم آپ کے ہیں کون' بھی 'میں نے پیار کیا' جیسی ہی تھی۔ تب تک ہم ہندی سنیما کو 'باغبان' جیسی فلموں کی طرح اہم سمجھ کر ہی دیکھا کرتے تھے۔ بلکہ پہلی بار مجھے لگا کہ ہالي وڈ میں بھی 'باغبان' جیسی فلم نہیں بنتی ہوگی۔ بہت سال بعد فیس بک پر کسی نے جب اس فلم کی بخیا ادھیڑدی، تب سمجھا کہ جو دیکھا تھا، وہ دراصل دیکھنا تھا ہی نہیں۔ پھر آپ میرے ہیرو بننے لگے تھے۔ گووندا کے بعد کسی کو عوامی ہیرو بنتے دیکھا تو وہ آپ تھے۔

آپ کی کئی فلمیں نہیں بہت ساری دیکھی ہیں۔ مجھے پردے کا سلمان اچھا لگتا ہے۔ تھوڑا زیادہ بدمعاش ہے، مگر وہ اپنی دھن کا ہیرو ہے۔ 'کرن ارجن' ہو یا 'انداز اپنا اپنا'۔ کبھی باغی تو کبھی جوکر لگتا ہے۔ کبھی اناڑی تو کبھی چھليا لگتا ہے۔ 'ہم دل دے چکے صنم' میں جب ایشوریہ نے آپ کو نیبو سے مارا تھا، تب لگا کہ نوٹنكي باز ایسے کر رہا ہے، جیسے کسی نے پتھر مار دیا ہو۔ آپ کی فلم کبھی سنیماہال سے باہر تو نہیں جا سکی، لیکن لوٹتے وقت آپ میرے ساتھ ضرور آئے۔

لیکن آہستہ آہستہ میں آپ فلموں میں دیکھنے لگا کہ کیا خوبی ہے کہ سو کروڑ کا کاروبار کرتی ہیں۔ جس کامیابی سے لڑنے کے لئے سب ایک سے ایک فلمیں کرنے لگے ہیں۔ 'وانٹیڈ' کے اسٹائل میں عامر نے 'گجني' کو تو دیکھا نہیں گیا۔ شاہ رخ خان نے 'چنئی ایکسپریس' اور 'ہیپی نیو ایئر' کی تو لگا کہ سب سلمان ہونا چاہتے ہیں۔ باکس آفس کا ہیرو سلمان خان۔ 'دبنگ' تک آتے آتے آپ اتنے مقبول ہو چکے تھے کہ ایک سنیما کے مالک نے بتایا کہ سلمان بھائی کی فلم آتی ہے تو لوگ ہفتے بھر سے ہی پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں۔ پکا فرنٹ اسٹال کا ہیرو سلمان خان۔ دماغ کو دل کے راستے بہلانے والا ہیرو۔

سلمان بھائی، آج آپ کو سزا ہوئی ہے۔ ہم سب اپنے اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کو بھگتتے رہتے ہیں۔ کبھی اندر سے تو کبھی باہر سے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا سلمان سچے ہیرو کی طرح اپنے قصور پر نادم ہو ۔ اس خاندان اور ان لوگوں کے بارے میں  سوچئے، جو آپ کی مہنگی کار کے نیچے آ گئے۔ سزا وہ نہیں ہے، جو عدالت دیتی ہے۔ عدالت تو سماج اور اسٹیٹ کے نظام کو برقرار رکھنے کے لئے سزا دیتی ہے، تاکہ سب قاعدہ قانون پر عمل کریں۔ اصلی سزا تو وہ ہوتی ہے، جسے انسان خود بھگتتا ہے۔

اس لیے سلمان بھائی، آج سے زندگی کے ان لمحوں کا حساب کیجئے گا، جو بے حساب رہ گئے ہیں۔ جن کا حساب سبھی کو کرنا پڑتا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ اصلی زندگی میں یاروں کے یار اور طلب گاروں کے مددگار ہیں، لیکن کئی بار ایک غلطی دل پر پر ایسے بیٹھ جاتی ہے کہ سب بے معنی ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ چاہیں گے تو بے معنی ہونے سے روک سکتے ہیں۔ مجھے دکھ ہو رہا ہے کہ میرا ہیرو جیل جا رہا ہے۔ مجھے اس کے لئے بھی دکھ ہو رہا ہے، جس کے لئے ہیرو جیل جا رہا ہے۔ میں بس یہی چاہتا ہوں کہ آپ میرے دکھ کی فکر نہ کریں۔ ان کی کریں، جو آپ کی گاڑی کے نیچے آ گئے۔ سزا کاٹنے کا ایک بہتر طریقہ اور ہے۔ ان لوگوں سے دوری بنا لیں، جو اتنے دنوں تک آپکو بے گناہ ثابت کر دینے کے بھرم میں ڈالتے رہے۔

آپ کے پاس اوپری عدالت کی دہلیز پر جانے کا موقع تو ہے اور جانا بھی ضروری ہے، لیکن اس دہلیز پر تبھی جائیں، جب بے گناہی پر واقعی اس بات کا یقین ہو۔ دلیلوں سے گناہ کم نہیں ہو جاتا سلمان بھائی۔ ان دلیلوں کو سنئے، جو آپ کے اندر اندر اس وقت کچوکے لگا رہی ہوں گی۔ اگر سچے دل سے واپس آئیں گے تو میں پھر سے اس نئے سلمان کے لئے ٹکٹ کی کھڑکی پر کھڑا ملوں گا، جیسے میں 1989 میں ملا تھا۔

آپ ایک ناظر

رويش کمار

رویش کمار این ڈی ٹی وی انڈیا کے سینئر اینکر 





دیگر خبروں

2
3
4