28/07/2017


سال 2014 کی اہم ادبی ،علمی و تہذیبی سرگرمیوں پر ایک نظر

ایشیا ٹائمز کی خصوصی پیش کش

  سال  2014 کی اہم  ادبی علمی و تہذیبی سرگرمیوں پر ایک نظر 

سمینار

راجدھاني دلي کے غالب انسٹی ٹیوٹ میں  سہ روزہ بين الاقوامي غالب سمينار کا انعقاد کیا گیا۔ اردو نثر کے معمار: مولانا محمد حسين آزاد ، خواجہ الطاف حسين حالي  اور مولانا شبلي کے موضوع سے 19، 20 اور 21 دسمبر کو منعقد کئے گئے اس سمينار میں اردو ادب و ثقافت ميں نماياں خدمات انجام دينے کے لئے کئي شخصيات کو انعامات سے سرفراز کيا گيا ۔ معروف تھيٹر آرٹسٹ ٹام آلٹر ، نقاد اور محقق پروفيسر شمس الحق عثماني ، پروفيسر قاضي افضال حسين ، پروفیسر نبی ہادی ، پروفیسر عبد الصمد،اور مضطر مجاز انعامات سے نوازے گئے۔  

 اردو اکادمي دہلي  نے کر شن چندر ، خواجہ احمد عباس صدي سمينار کا انعقاد کیا ۔ شرکا نے اس سہ روزہ سمینار  ميں کرشن چندر اور خواجہ احمد عباس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادیبوں نے اپنی تحریروں کے ذريعے سماج کو ايک نئي سمت عطا کي ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مولانا الطاف حسين حالي اور مولانا شبلي نعماني کي صدي تقريبات کا انعقاد راجدھاني دلي کے  اردو اکادمي میں کیا گیا۔ اس تين روزہ قومي سمينار میں  بڑي تعداد ميں اہل علم نے شرکت کي  اور دونوں ادیبوں کی علمي اور ادبي خدمات کو خراج تحسين پيش کيا۔  شرکا نے کہا کہ حالی  بہ یک وقت شاعر ' ادیب' نقاد اور مصلح قوم تھے تو شبلی  نامور مورخ' شاعر اور ادیب تھے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قومي کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زير اہتمام سہ روزہ عالمي اردوکانفرنس کا نئی دہلی میں انعقاد کیا گیا۔ 21ويں صدي ميں اردوکا سماجي وثقافتي فروغ  کے موضوع سے  31-30 اکتوبراور يکم نومبر کو منعقد کی گئی اس کانفرنس ميں فروغ اردوکے سلسلے ميں اہم تجاويز اورسفارشات پيش کي گئيں۔ فروغ انساني وسائل کي مرکزي وزير اسمرتي ايراني نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کے ذريعے ہم ملک کے اتحادوسلامتي کو قائم رکھ سکتے ہيں۔ اس سہ روزہ کانفرنس ميں دنيا بھر سے آئی ادبي شخصيات نے شرکت کي۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کا انعقاد 27، 28 اور 29 ستمبر کو ایوانِ غالب میں کیا گیا۔ اس سمینار میں  ملک و بیرون ملک سے ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ سمینار کا افتتاح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کیا۔

نظیر اکبر آبادی : فن و شخصیت ، پر قومی سمینار

اردو اکادمی کے زیر اہتمام "نظیر اکبر آبادی : فن و شخصیت "کے عنوان سے دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ نظیر اکبر آبادی کی شاعری زندہ معاشرے کی تصویر ہے ، جہاں فرقہ واریت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ شرکا کے مطابق نظیر کی شاعری میں عوام و خاص کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے اور وہ سبھی کے شاعر ہیں ۔

امیر خسرو سمینارکا ایوانِ غالب میں انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل امیر خسرو سوسائٹی نے  ’’امیر خسرو کی دلّی : تاریخی اور سماجی منظرنامہ‘‘ کے موضوع سے ایک سمینار کا انعقاد کیا۔  امیر خسرو سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر خلیق انجم نے کہا کہ خسرو نے  ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

غالب اکیڈمی میں 19 جنوری کو خواجہ الطاف حسین حالی پر یک روزہ کل ہند سمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ اس سمینار میں شرکا نے خواجہ الطاف حسین حالی  کی علمي اور ادبي خدمات کو خراج تحسين پيش کيا۔

غالب اکیڈمی، نئی دہلی کے 45ویں یوم تاسیس اور مرزا غالب کے 145 ویں یوم وفات  کے موقع پر 21 فروری کو غالب اکیڈمی میں محفل کلام غالب کا انعقاد کیا گیا۔ اس محفل میں بڑی تعداد میں با ذوق لوگوں نے شرکت کی ۔ شعرا حضرات نے تمام شائقین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا۔

مخطوطات کی اہمیت پر دو روزہ سمینارمنعقد 

غالب انسٹی ٹیوٹ اور رامپور رضالائبریری  نے  ’’رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود فارسی اور اُردو کے مخطوطات، تاریخ، ادب اور ثقافت کا مآخذ‘‘ کے موضوع پرایک سمینار کا انعقاد کیا۔ شرکا کے مطابق  ان دونوں لائبریریوں میں رکھے ہوئے مخطوطات ہماری علمی،ادبی ،تہذیبی اور تاریخی زندگی کانہایت قیمتی سرمایہ ہیں ۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمد میموریل لکچرکاانعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام 29 مئی کو ’’ہندستان کی قومی تحریک کی تاریخ پرمختلف نظریات‘‘کے موضوع پرفخرالدین علی احمدمیموریل لکچرمنعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ممتاز مؤرخ اورپروفیسر ایمریٹس عرفان حبیب نے کہا کہ  قومی تحریک ہندستان کی اہم تحریکوں میں سے ایک ہے اور اس تحریک کی اہمیت کوکبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

بین الاقوامی سمینار(یومِ غالب)کا انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ نے ، آغاخان فاؤنڈیشن، انجمن ترقی اردو دلّی و غالب اکیڈیمی کے تعان سے غالب کے یومِ وفات یعنی یومِ غالب کے موقع پر ’’کلامِ غالب کا تجزیہ‘‘ کے موضوع پرایک بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا۔ اس موقعہ پر آغاخان فاؤنڈیشن کے چیئرمین پروفیسر آباد احمدنے کہا کہ  غالب کی غزل کے ساتھ اُن کے خطوط نے بھی ہمیں ا ردو نثرکاقیمتی سرمایہ دیاہے۔

ہندوستاني تہذيب کے فروغ ميں اردو کے کردارپر قومي سيمينار

قومي کونسل برائے فروغ اردوزبان کے اشتراک سے غیر سرکاری تنظیم 'سالويشن' کے زير اہتمام ہندوستاني تہذيب کے فروغ ميں اردوکا کردار، کے عنوان سے غالب اکيڈمي ميں يک روزہ سيمينار کا انعقادہوا۔شرکاء نے کہا کہ ہندوستاني تہذيب ميں اردو کا بہت اہم کرداررہا ہے۔ لہذااردوکے فروغ کيلئے ہم سب کو مل جل کر اورذاتي مفاد سے بالا تر ہو کر کام کرنا چاہئے۔

ساہتيہ اکيڈمي کے زير اہتمام سيمينار

ساہتیہ اکیڈمی نے ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری پرسہ روزہ سمینار کا انعقاد کیا۔ اردوکے ممتازنقاداور دانشورپروفيسر گوپي چند نارنگ نے کہا کہ علي سردارجعفري ترقي پسندوں کے سب سے بڑے قافلہ سالارتھے اورشاعري، خطابت اور نثر تينوں ميں انہوں نے اپنا لوہا منوايا۔

 کتاب کا اجرا

کتاب’’انیسویں صدی میں، ادب، تاریخ اور تہذیب‘‘ کا اجرا

پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر28 مارچ کو غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک بڑے جلسے کااہتمام کیاگیا۔ اس تاریخی موقع پر پروفیسر صدیق الرحمن قدوای کے اعزاز میں ترتیب دی گئی کتاب’’انیسویں صدی میں، ادب، تاریخ اور تہذیب‘‘ کا اجرا بہاروہریانہ کے سابق گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ شاہد مہدی کے ہاتھوں  عمل میںآیا۔

مشاعرے

دہلي ميں مشاعرہ جشن جمہوريت

لال قلعہ میں 17 جنوری کو مشاعرہ جشن جمہوريت کا اہتمام کیا گیا۔ دہلي اردوکادمي کے زير اہتمام اس تاريخي مشاعرہ کي صدارت شعيب اقبال نے کي جب کہ نظامت کے فرائض  منصورعثماني نے انجام ديئے۔ مشاعرہ ميں ملک کے مايہ نازشاعراوشاعرات نے غالب و مير کي دہلي کے بالغ نظر سامعين کو خوب محظوظ کيا۔

...............

۔اردو اکادمي دہلي کے زير اہتمام سہ روزہ  'نئے پرانے چراغ'  پروگرام کا انعقاد قمر رئيس سلور جوبلي آڈيٹوريم ميں کيا گيا ۔ 17 سے 19جون تک جاري اس تقریب میں تحقیقی، تنقیدی اور  تخلیقی اجلاس کے ساتھ ساتھ محفل شعر و سخن کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریبا پچاس مقالے اور افسانے بھي پيش کيے گئے جب کہ تقریبا 150 شعرا نے اپنا کلا م سنایا۔ 

ڈرامہ فیسٹیول

قدسيہ زيدي اور خواجہ احمد عباس کو نذر اردو اکادمي دہلي کے  26 ویں  اردو ڈرامہ فيسٹيول کا افتتاح 13 اکتوبر کو ہوا ۔ اس فیسٹیول میں خواجہ احمد عباس کي زندگي پر ڈرامے پیش کئے گئے۔ ان ڈراموں میں  خواجہ احمد عباس کي ادبي اور فلمي زندگي کو  اس طرح پیش کیا گیا کہ ان کي زندگي کے بہت سے ايسے روشن پہلو نماياں ہوئے جن سے عام آدمي واقف نہيں تھا ۔

ایوارڈ

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ

اردو کے ممتاز و معروف شاعر منوّر رانا کو ان کے شعری مجموعہ " شہدابہ" پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2014 دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تقریبا ایک دہائی کے بعد لکھنو کے کسی شاعر کو ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ ملا ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے منور رانا وشسٹ رتوراج سمان ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، کبیر سمان ایوارڈ، میر تقی میرایوارڈ جیسے کئی انعامات سے نوازے جا چکے ہیں۔

 اردو اکادمی ایوارڈ

اردو اکادمی دہلی نے 5 نومبر کو ادبی شخصیات کو اردو اکادمی ایوارڈ سے نوازا۔ کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ پروفیسر سیدہ جعفر کو، پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی ایوارڈ، پروفیسر شمیم حنفی کو، ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید، ڈاکٹر خاور ہاشمی کو، ایوارڈ برائے تخلیقی نثر  اقبال مہدی کو، ایوارڈ برائے شاعری فرحت احساس کو،  ایوارڈ برائے صحافت سہیل انجم کو ایوارڈ برائے اردو ترجمہ ڈاکٹر ارجمند آرا کو اور ایوارڈ برائے اردو ڈراما شاہد انور کو دیئے گئے۔

اردو اکادمي ، دہلي کي جانب سے سالانہ جلسہ تقسيم انعامات برائے اردو خواندگي مراکز 

 اردو اکادمي دہلي کي جانب سے 4 دسمبر کو سالانہ جلسہ تقسيم اسناد انعامات برائے اردو خواندگي مراکز کا انعقاد تالکٹورہ اسٹيڈيم ميں عمل ميں آيا ۔اس موقع پر اردو خواندگي مراکز کے تقريباً 150 چنندہ انسٹر کٹرز اور طلباء طالبات کو شيلڈ ، سرٹيفکيٹ اور نقد انعامات تقسيم کئے گئے۔

پروفیسر اختر الواسع دکتور ادب کے اعزاز سے سرفراز

جامعہ اردو علی گڑھ کے زیر اہتمام منعقد ایک پروقار تقریب میں پروفیسر اختر الواسع کو گراں قدر اعزاز"دکتور ادب "، ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے سرفراز کیا گیا ۔ اس موقع پر انہیں ایک یادگاری نشان ، سپاسنامہ ، دکتور ادب کی ڈگری اور شال پیش کی گئی ۔

نوازديوبندي کو مير تقي ميرايوارڈ

شاعرواديب ڈاکٹر نوازديوبندي  میر تقی میر ایوارڈ سے نوازے گئے ۔ انہیں یہ ایوارڈ گوہاٹی میں امريکہ اورکناڈا ميں مقيم بنيادي طورپر ہندوستاني تنظيم کے زير اہتمام  تنظيم کي بين الاقوامي تقريب ميں ميگھاليہ کے گورنر نے نوازا۔ 

ادبی شخصیات کا انتقال

پروفيسر صغرا مہدي کا انتقال

جامعہ مليہ اسلاميہ کے شعبہ اردوکي سابق استاذپروفيسرصغريٰ مہدي  18 مارچ 2014 کو انتقال کر گئیں۔ پروفيسرصغرامہدي کي پيدائش 8 اگست 1936 کو  بھوپال ميں ہوءي تھي۔  مرحومہ صغرامہدي کا تعلق بانيان جامعہ کے خانوادے سے تھا۔

ممتازناقد پروفيسرمحمودالہي کا انتقال

اردوکے معروف دانشور،نقادواديب وشاعرپروفيسر محمودالہي نے 19 مارچ  کو مختصر علالت کے بعد لکھنؤ ميں داعئ اجل کو لبيک کہا۔ ان کي عمر 84 برس تھي۔ وہ 2 ستمبر 1930کوفيض آباد ميں پيداہوئے۔ انہوں ے گورکھپوريونيورسٹي ميں شعبہ اردوقائم کيا اور اس کے صدر کے عہدہ سے 1990 ميں سبکدوش ہوئے۔

ناموراديب و نقادوارث علوي کا انتقال

معروف ادیب اورنقاد وارث علوی کا 9 جنوری 2014 کو 86 برس کی عمر میں احمد آباد میں انتقال ہوگیا۔  ان کی پیدائش 11 جون 1928 کو احمد آباد میں ہوئی تھی۔ وارث علوی تقریباً 2 درجن کتابوں کے مصنف تھے۔  ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی  انعامات سے بھی نوازاگیا ہے۔

ڈاکٹر اقبال مرزا کی موت

معروف ادیب،شاعر،دانشور اور  لندن سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’صدا‘  کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزا کا ۱۸اگست کو لندن میں انتقال ہوگیا۔   ادبی شخصیات نے ڈاکٹر  مرزاکی موت کو اردو دنیا کے لئے بڑے  خسارے سے تعبیر کیا ۔

سيد ضميرحسن دہلوي کا انتقال

 اردوکے مشہوروممتازاديب اور شاعرسيد ضميرحسن دہلوي  16 مئی  کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔ سيد ضمير حسن دہلوي ذاکرحسين کالج کے شعبۂ اردوسے طويل عرصے تک وابستہ رہے۔





دیگر خبروں

2
3
4