28/07/2017


آئی بی کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا جائے : ڈاکٹر ظفرالاسلام

انٹرویو: ایس خرم رضا

(نیشنل ہیرالڈ)

 

’ملی گزٹ‘ کے مدیر ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے مطالبہ کیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ وہ آج کل ہندستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اوردہشت گردی سے متعلق کیسوں پر ایک قرطاس ابیض (وہائٹ پیپر ) تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

حکومت چاہے این ڈی اے کی رہی ہو یا یو پی اے کی، جب بھی کوئی چھوٹا یا بڑادھماکہ ہوا، کئی کئی نوجوان مسلمانوں کو پکڑ لیا گیا ۔ ان میں اکثر سالہا سال جیلوں میں قید رہنے کے بعد کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں نے بری ہوکر باہر نکل آئے ہیں۔ لیکن سوا ل یہ ہے کہ جن کو ملزم بناکر پیش کیا گیا وہ تو بے قصورنکلے، تو پھر اصل قصوروار کون ہیں؟ ایس خرم رضا نے ’ ملی گزٹ‘ کے مدیر ڈاکٹرظفرالاسلام خان سے دہشت گردی کے موضوع پر قرطاس ابیض نکالنے کے ان کے منصوبے پر بھی بات کی۔

سوال: قرطاس ابیض  کن  امور پر مرکوز ہوگا؟

وہائٹ پیپر صرف ان نوجوانوں کے مسئلے تک محدود نہیں ہوگا جو ناگہانی گرفتار کرلیے گئے اور جعلسازی سے ملزم بنائے گئے۔ البتہ اس طرح کے معاملات اس میں شامل ہونگے۔ ہماراارادہ ہندستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اوراس پہلو پر روشنی ڈالنے کاہے کہ سرکاری مشینری قانون کا کس طرح غلط استعمال کرتی ہے۔اس میں توجہ اس بات پر مرکوزہوگی کہ عام باشندے اور خاص طور سے دلت، مسلم اور دیگراقلیتوں، آدی واسیوں اورغریب طبقہ کے لوگوں پراس نظام میں کس طرح ظلم کیے جاتے ہیں۔ اس میں ہم ان قوانین کا جائزہ لیں گے جو برطانوی دورسے نافذ ہیں اورجو مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ تمام ہندستانیوں کی بنیادی آزادیوں کو محدود کرتے ہیں۔ان قوانین کا استعمال عوام کو آئینی حقوق، انسانی حقوق، مذہبی حقوق، نسلی اورلسانی حقوق سے محروم کرنے کے لیے کبھی ریاستی سطح پر اورکبھی قومی سطح پرہوتا ہے۔ اس دستاویز میں جعلی انکاؤنٹرز، اذیت رسانی کے کیسوں، پولیس معاملات اوران پولیس اصلاحات پراندراجات شامل کئے  جائیں گے جن کی اشد ضرورت ہے۔

 

۔ وہائٹ پیپر کا خیال  آپ کوکیسے آیا؟

سنہ 2003 میں مسٹرلال کرشن اڈوانی نے، جو اس وقت مرکزی وزیر داخلہ تھے، اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی پروہ  ایک وہائٹ پیپر لائیں گے۔ لیکن وہ نہیں لائے اورلا بھی نہیں سکتے تھے۔ و ہی نہیں بلکہ  اگرکوئ بھی وزارت یا سرکاری محکمہ اس موضوع پر وہائٹ پیپر لاتا تو وہ جھوٹ کا پلندہ ہی ہوتا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ محتلف ریاستی پولیس فورسیز میں انسداددہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس)، انٹیلی جنس بیوریو (آئی بی)  [اوراب قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)] کا غلط استعمال ہورہا ہے ۔ ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ مختلف لوگ کس طرح عدلیہ کو گمراہ کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اس پر  تقریبا سنہ 2006میں ہی کام کرنا شروع کردیا تھا۔ لیکن کیونکہ ہمارے وسائل قلیل تھے اور کام بہت بڑا،  اس لئے رفتارسست رہی۔

۔ آپ کا کام کہاں تک پہنچا؟

ہم نے تقریبا 90 فیصد کام پورا کرلیا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ اگلے چار پا پانچ ماہ میں کوئی ایک ہزارصفحےکی یہ دستاویز تیار ہوکر شائع ہوجائے گی۔

 

۔ کیا مسٹراڈوانی کے مجوزہ وہائٹ پیپر کی رد پیش کرنا مقصود تھا؟

پیش نظریہ تھا کہ دہشت گردی کے مقابلے کے نام پر جوکچھ ہورہا ہے ا س کی حقیقی تصویرعوام کے سامنے لائی جائے۔ میں یہ نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ ٹاڈا اور پوٹا قوانین کے تحت جتنے کیس درج ہوئے ان میں سے صرف دو فیصد  سے کم میں میں ہی ملزمان کو سزائیں ہوئی ہیں ،باقی سب باعزت بری ہوئے۔ یہی صورت اب یو اے پی اے  قانون کے تحت درج معاملات کی بھی ہے اکثرملزم دس دس، بارہ بارہ سال اوریہاں تک کہ بائیس سال جیلوں میں قید رہ کر باعزت بری ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف بغیر کسی شہادت  کےکیس درج کرلئے گئے تھے ۔ اس لئے جب کیس عدالتوں میں زیرسماعت آئے تو ٹھہر نہیں پائے۔ ہمارے پاس قابل اعتماد دستاویزات ہیں کہ پولیس، اے ٹی ایس اور دہلی پولیس اسپیشل سیل نے فرضی کیس درج کئے اور ملزمان سے اقبالیہ بیان حاصل کرنے کے لئے ان کو انتہائی شدید اذیتیں دیں، جن میں جسمانی اذیت کے علاوہ ان کے گھر کی خواتین  کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

۔ کیا آپ اے ٹی ایس، پولیس اور یہاں تک کہ عدلیہ کے کام پر الزام عائد کر رہے ہیں؟

نہیں، ہم عدلیہ پر الزام عائد نہیں کر تے کیونکہ عدالت صرف ان ثبوتوں اوردستاویزوںکو دیکھتی ہے جو اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔یہ دستاویزات  اے ٹی ایس ،خصوصی سیل، خصوصی ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) یا پولیس کی تیارکی ہوئی ہوتی ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے استغاثہ اکثرکیسوں میں ان ثبوتوں کی بنیادپرعائد الزامات کوثابت کرنے میں اورعدالت کو قائل کرنے میں ناکام رہاہے۔ ان کیسوں کی وجہ سے جن بہت سے مسلم نوجوانوں کے دس، دس ، پندرہ پندرہ سال یہاں تک کہ بائیس اورپچیس سال جیلوں میں ضائع کردیے گیے  اور وہ رہا توہوگئے لیکن ان بے قصوروں کو دی گئی اس سزا کا خمیازہ کون اداکرنے والا ہے؟

۔ اگردھماکوں کے لئے گرفتاراکثرلوگ بری ہوگئے تو پھر یہ دھماکے کس نے کیے؟

یقیناً کسی اور نے کیے۔

۔ یہ ’کوئی‘کون ہے اورکہاں ہے؟

مہاراشٹراے ٹی ایس نے، جب مسٹرہیمنت کرکرے اس کے سربراہ تھے، کچھ ایسے لوگوں کو گرفتار کیا تھا جو سنہ 2003اور سنہ 2008 کے درمیان مختلف دھماکوں میں ملوّث تھے۔ دھماکوں کے ایک ایسے ہی معاملے میں بم نصب کرنے کے لئے ایک موٹرسائکل استعمال کی گئی تھی جس کی شناخت چھپانے کے اس  کےچیسس اورانجن نمبروں کو  گھس کرمٹادیا گیا تھا۔ کرکرے نے اس موٹرسائکل کو اس کی بنانے والی کمپنی کے کارخانے میں بھیجا جہاں سے موصولہ تفصیلات کی بنیاد پر سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سوامی اسیمانند اور کرنل پرساد پروہت اوردیگر  افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ لوگ سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں کے لیے بھی ذمہ دار تھے۔ ہم سمجھتےہیں اس میں آئی بی کا بھی کردار رہا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ سرکاریں بھی مجرم ہیں۔ وہ ایک قسم کی پولیس ریاست بنانا چاہتی ہیں۔ یہ امریکہ میں ہو رہا ہے اور ان کارروائیوں کو false flag operations یعنی ایسے دہشت گردانہ جرائم جو لگے کہ انہیں  کسی دہشت گرد تنظیم یا کسی  دشمن ملک نے  انجام دیا ہے  جبکہ ان کو خود  اپنے ہی جاسوسوں، پولیس یا سیکیوریٹی کے لوگوں نے ایک خاص ماحول بنانے کے لئے کیا ہو۔اس طرح کی کاروائیوں سے سرکاروں کا مقصد کسی خفیہ ایجنڈے یا قانون کو نافذ کرنا ہوتا ہے جو بصورت دیگر ممکن نہیں ہوتا۔ ان سب کاروائیوں کے لیے اے ٹی ایس، آئی بی، اسپیشل سیل یا دیگر ایجنسیوں کے پاس بہت بڑی مقدار میں خفیہ فنڈ ہوتے ہیں۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس لا منتہی خفیہ فنڈ کا کوئی حساب وکتاب اورجوابدہی نہیں ہوتی۔ گمان ہے کہ اس کا ایک حصہ عملے کی جیبوں میں چلاجاتا ہے اورکچھ کا غلط استعمال مفاد خصوصی  اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے  ہوتا ہے۔ جوابدہی اورحسا ب داری کی عدم موجودگی میں  اصل میں کیا ہوتا ہے ،یہ کوئی نہیں جانتا۔

۔ کیا آپ یہ کہہ رہے  ہیں کہ اگر ان فنڈز کا آڈٹ کیا جائے تو ان سرگرمیوںمیں کچھ کمی آجائے گی؟

یقیناً ان میں کافی کمی آجائے گی۔ یہ ایجنسیاں  ان  خفیہ فنڈز کا آڈٹ خود کرتی ہیں۔ ان کاآڈٹ کیگ CAGیا ایسے ہی کسی آزاد بیرونی ایجنسی سےنہیں کرایاجاتا۔ یہ ضروری ہے کہ سرکاری فنڈز کا آڈٹ کیا جائے۔ آئی بی اور اے ٹی ایس کے یہ خفیہ فنڈز کبھی بھی آڈٹ نہیں کیے جاتے ہیں۔

 

۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دہشت گردانہ سرگرمی میں کبھی کوئی مسلمان ماخوذ نہیں رہا ہے؟

میں نے ایسا کبھی نہیں کہا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ مسلمان بھی جانے انجانے دہشت گردی کے جرم میں ملوث ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی تعداد بہت ہی معمولی ہوگی۔

۔ وہ قلیل تعداد کتنے فیصد ہوسکتی ہے؟

وہ ایک یا دوفیصد ہوسکتی ہے۔

۔کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث افراد میں بس دوفیصد مسلمان ملوّث ہوسکتے ہیں اورباقی سب آئی بی کے لوگوں کا یا ہندتووا کے پروردہ دہشت گردوں کے کام ہیں؟

جی ہاں، میرا خیال یہی ہے۔  زیادہ تر گرفتار لڑکوں کو جبری اورجھوٹے اقرارجرم میں پھنسایا جاتا ہے۔ میں نے  حال میں اردومیں ایک کتاب’بے گنا ہ قیدی‘شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اقبال جرم کرانے کے لئے کس طرح  شدید ترین اذیتیں دی جاتی ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں اوراقرارنامے پر دستخط کرانے کےلیے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ واحد دستاویز، جو کسی بے قصورملزم کوپھانسی کے پھندے تک پہنچا دیتی  ہے، وہ پولیس کے سامنے ملزم کا اعتراف گناہ ہوتا ہے جب کہ دنیا میں ایسا کہیں بھی  نہیں ہوتا ہے۔ کسی بھی مہذب ملک میں پولیس اہلکار کے سامنے اقرارجرم عدالتوں میں قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔ صرف ٹاڈا، پوٹا اور یو اے پی اے کے تحت پولیس اہلکار کے سامنے اقرارجرم، بغیر  کسی اضافی ثبوت کے ،عدالت میں قابل قبول ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے میں ان قوانین کو غیرآئینی قرار دیتا ہوں۔ جرم کا اقبال صرف جج کے سامنے ہی قابل قبول ہونا چاہئے۔ ممبئی سیریل ٹرین دھماکوں کے بعد13 افراد کو گرفتار کیا گیاتھا۔ ان میں سے  12 نے اعتراف جرم کے کاغذ پرصرف اس لئے دستخط کردئے کہ ان کو شدیداذیتیں دی گئیں تھیں ،  یہاں تک کہ ان کے والدین کو بھی ان کے سامنے برہنہ کردیا گیا۔ ایذائیں پہنچا کراوردھمکیاں دے کر اقبال جرم کرانے کا حربہ قطعی غیرآئینی، غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ اس جبری اعتراف کی بنیاد پر ان 12 اشخاص کو موت کی سزا سنائی گئی جو بعد  میں عمر قید میں تبدیل ہو گئی۔ جس ایک ملزم نے کسی بھی طرح اقبال جرم پر دستخط نہیں کئے تھےوہ ثبوت کی عدم موجودگی کی وجہ سے  بری ہوگیا۔ یہ ایک انتہائی خوفناک اور غلیظ کھیل ہے اور آئین کی روح کے قطعی خلاف ہے۔

۔ آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ آئی بی غیرآئینی ہے؟

اس تنظیم کو قائم کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے کبھی کوئی قانون منظورنہیں ہوا۔ اس کے باوجودیہ تنظیم موجود ہے  بلکہ  ملک  کی  سب سے زیادہ طاقتور تنظیم ہے۔کوئی سرکاری تنظیم قائم کرنے کے لئے پارلیمنٹ  یا اسمبلی سے کوئی منظور شدہ قانون ہونا چاہئے، چاہے وہ مرکزی قانون ہو یا ریاستی قانون ۔ آئی بی کے معاملہ میں یہ نہیں ہوا۔ یہ تنظیم ۱۸۸۷ میں اس وقت قائم ہوئی تھی جب لندن میں برطانوی حکومت سے تار برقی سے ایک پیغام موصول ہوا۔  ہندوستان میں آئی بی محض اس ٹیلی گرام کی بنیاد پر قائم ہوئی جس کا اب کوئی سراغ بھی نہیں ملتا۔ بھارت کے نائب صدر جناب حامد انصاری نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ آئی بی کو پارلیمنٹ کی نگرانی کے تحت لایا جائے اور اسے پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ بنانے کے لئے ایکٹ بنایا جائے۔ ابھی سوائے خود کے  آئی بی کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔

۔ حکومت کو ان مسلمانوں کو معاوضہ دینے کے لئے کیا کرنا چاہئے جو برسوں  جیل میں گزارنے کے بعد باعزت بری ہوکررہا ہوئے ہیں؟

مسلم تنظیموں نے مسلسل یہ مطالبہ کیا ہے کہ بے قصور ہونے کے باوجودان نوجوانوں پر قید وبند کی جو مصیبت مسلط کی گئی اوران کی زندگیاں برباد کی گئیں،ان کی تلافی ہونی چاہئے اور معافی بھی مانگی جانی چاہئے۔ایسا صرف حیدرآبادکے ایک کیس میں ہوا ہے۔ یہاں پولیس نے انہیں معافی کے خطوط دئے اور تیس ہزار    روپئے فی کس کا معمولی معاوضہ بھی دیا ۔ ایک اور مطالبہ یہ ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کیس درج کیے جائیں جنہوں نے  جان بوجھ کر جھوٹے الزامات کے تحت  بیگناہوںکو ملزم بنایا اور وہ  برسوں قید میں رہے۔ ایک کیس میں اپنے فیصلے میں ایک جج  نے  لکھا  بھی تھا کہ ان افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے لیکن یہ ہوا نہیں ۔

اگریہ نہیں کیاگیا تو کیا یہ عدالت کی توہین نہیں ہے؟

جی ہاں، یہ عدالت کی توہین ہے۔ لیکن یہ لوگ اتنا ٹوٹ چکے ہوتے ہیں، اتنا برباد ہوچکے ہیں کہ ان میں معاملات کی مزید پیروی کرنے کی سکت باقی نہیں رہتی ہے۔

۔  دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں ہندستانی مسلم تنظیموں کا کیا کردارکیا رہا ہے؟

ہندستانی مسلمانوں اور مسلم تنظیموں نے بہت شروع سے دہشت گردی کی کھل کر مخالفت کی ہے ۔ وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی اسلام کا حصہ نہیں ہے۔ قرآن مجید کا کہنا ہے کہ "اگر آپ کسی بیگناہ  شخص کو قتل کرتے ہیں تو یہ پوری انسانيت کو قتل کرنے کے برابر ہے اور اگر آپ کسی بیگناہ شخص کی جان کو بچاتے ہیں تو یہ پوری انسانيت کو بچانے کے برابر  ہے"۔ لہذا، کوئی بھی کسی کو مارڈالنے کا مجاز نہیں۔

۔کیاصرف زبانی یہ کہہ دینا اور یقین رکھنا  کہ اسلام دہشت گردی کی تبلیغ نہیں کرتا، اس مقصد کو پورا کردیتا ہے؟اس سلسلہ میں مسلمان رہنماؤں اور تنظیموں نے جو کردار ادا کیا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟

جی ہاں، میں بہت مطمئن ہوں اور وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے میرے خیالات کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کئی مرتبہ کہا ہے دہشت گردی کے خلاف مسلمانوں کے واضح اورپرزور موقف کے لئے وہ شکر گزار ہیں۔

(بشکریہ نیشنل ہیرالڈ، ۶ جولائی ۲۰۱۷ ۔ انگریزی سے ترجمہ: سید منصور آغا) 

اصل  انگریزی انٹرویو یہاں ہے

 https://www.nationalheraldindia.com/interviews/make-intelligence-bureau-accountable-to-parliament

 





دیگر خبروں

2
3
4