26/09/2017


غصہ ہے، بے چینی ہے، مایوسی ہے!

ڈاکٹر یامین انصاری

 صدائے دل

لوگوں کے اندر پیدا ہونے والی یہ بے چینی کی کیفیت، مایوسی کا یہ عالم اور دلوں میں پلنے والا یہ غم و غصہ کس انجام کو پہنچے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا
اس بات سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ اس وقت ملک ایک عجیب و غریب صورت حال سے دو چار ہے۔ لوگوں میں کہیں بے چینی ہے، کہیں مایوسی کا عالم ہے اور کہیں غم و غصہ ہے۔ کہیں لوگ حکومت کے فیصلوں سے ناراض ہیں، کہیں سرکاری رویہ سے خفا ہیں، تو کہیں ملک میں تیزی سے چلنے والی نفرت انگیز مہم کو نہ روک پانے سے مایوس ہیں۔ کہیں لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، تو کہیں کسان مسائل سے عاجز آکر اپنی جان دے رہے ہیں۔ کہیں دلتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں تو کہیں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ ایک سلسلہ ہے جو چل پڑا ہے ۔ یہ سلسلہ نہ رک رہا ہے اور نہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پھر بھی دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے، ترقی کر رہا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان واقعات پر حکمراں طبقہ اور اس کے حوارین نہ صرف خاموش ہیں، بلکہ در پردہ ان کی سرپرستی و حمایت بھی حاصل ہے۔ لوگوں کے اندر پیدا ہونے والی یہ بے چینی کی کیفیت، مایوسی کا یہ عالم اور دلوں میں پلنے والا یہ غم و غصہ کس انجام کو پہنچے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اگر وقت رہتے اس جانب توجہ نہیں دی گئی اور اس مسئلہ کے سد باب کے لئے سرکار کی سطح پر کوشش نہیں کی گئی توخدشہ ہے کہ یہ حالات ملک کی تصویر نہ بدل دیں۔ کیوں کہ پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ جو حکومت کا طرف دار نہیں، وہ ملک کا غدار ہے۔ حکومت کسی ایک جماعت کی یا اس کے حامیوں کی نہیں ہوتی، بلکہ حکومت میں بیٹھے لوگوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ قانون کا تحفظ کریں گے، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی کریں گے۔ لیکن اس کے بر عکس دور دراز کے ملکوں میں پیش آنے والے واقعات پر ٹوئیٹ کرکے اظہارہمدردی اور مذمت کرنے والے وزیر اعظم مودی کو اپنے ہی ملک میں ابھی تک دادری کے اخلاق سے لے کر بلبھ گڑھ کے جنید تک کے ساتھ پیش آنے والے واقعات، جنھوں نے پورے مل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وزیر اعظم کی خاموشی ہنوز برقرار ہے۔ پھر آخر کیوں نہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا اس طرح کے واقعات کو حکمراں طبقہ کی سر پرستی و حمایت حاصل ہے؟ ان تمام واقعات کا ایمانداری سے جائزہ لیا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
 

مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت قائم ہونے کے بعد ملک میں دو مختلف قسم کی آرا تھیں۔ ایک وہ طبقہ تھا جس کے اندر جوش تھا، ولولہ تھا ۔ کیوں کہ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ تقریباً ۸۰۰؍ برس کے بعد ملک پر حکومت کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے اور اس کا اظہار کچھ لوگوں نے علی الاعلان کر بھی دیا تھا۔ دو سری جانب وہ طبقہ تھا جس کے اندر مختلف قسم کے اندیشے تھے، خدشات تھے، تحفظات تھے۔ وہ اس لئے کہ ۲۰۰۲ء میں گجرات کے انسانیت سوز واقعات اور حالات اس کے ذہنوں میں تازہ تھے اور ملک پر وہی نریندر مودی راج کرنے جا رہے تھے ۔ آج نریندر مودی حکومت کے قیام کے تین سال کے بعد دونوں ہی طبقات اپنے احساسات کو حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ مودی حکومت نے اپنی حصولیابیوں کو بتانے کے مقصد سے ایک نعرہ دیا تھا ’میرا دیش بدل رہا ہے‘ ۔ حکومت کی جو حصولیابیاں یا کامیابیاں ہیں وہ جانے، لیکن ملک اور ملک کے حالات کس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں وہ الگ ایک پہلو ہے۔ کیوں کہ اگر اس پہلو کو نظر انداز کر دیا گیا، اور ابھی تک کیا جا رہا ہے، تو یقین مانئے ہندوستان کی شبیہ داغدار ہو جائے گی۔ اقتدار حاصل کرنے کے لئے اقلیتوں با لخصوص مسلمانوں کے خلاف جس طرح نفرت کا سہارا لیا گیا، اب وہ نفرت گھروں میں، سڑکوں پر، ٹرینوں میں ، مذہبی مقامات میں اور مذہبی تقریبات میں کھل کر نظر آنے لگی ہے۔ شروع میں اس نفرت کے اظہار کے لئے کچھ وجوہات کا سہارا لیا جاتا تھا، لیکن اب بات کافی آگے بڑھ چکی ہے، کیوں کہ صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر سر عام مارا پیٹا جا رہا، قتل کیا جا رہا ہے۔ 
اب سے تقریباً دو سال قبل دہلی سے متصل دادری میں اخلاق نامی شخص کو اس کے گھر میں گھس کر محض اس لئے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیاکہ حملہ آوروں کو شک تھا کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے۔ راجستھان کے الور میں پہلو خان کو دن کے اجالے میں مصروف شاہراہ پریہ کہہ کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا کہ وہ گایوں کی اسمگلنگ کرتا پکڑا گیا۔ جھارکھنڈ کے لاتیہار میں محمد مظلوم اور عنایت اللہ نامی نوجوانوں کو اس لئے قتل کرکے درخت پر لٹکا دیا گیا کیوں کہ وہ گائے اور بیل خرید کر لے جا رہے تھے اور مقامی نام نہاد گؤ رکشکوں کو شک ہوا کہ جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے لے جایا جا رہا ہے۔ یو پی کے بلند شہر کے تھانہ پہاسو علاقہ میں غلام محمد نامی ایک معمرشخص کواس لئے لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا کیوں کہ اس کے گاؤں کا ایک لڑکا ایک ہندو لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا تھا۔ اس واردات میں شامل لوگوں کا تعلق یو پی کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کی تنظیم ’ہندو یووا واہنی‘سے بتایا گیا۔ اس کے بعد راجستھان میں ظفر خان نامی شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دینے میں سرکاری عملہ کے لوگ بھی شامل رہے۔ اور اب تازہ واقعہ ملک کی راجدھانی دہلی سے روانہ ہوئی ایک ٹرین میں چند کلو میٹر جانے کے بعد پیش آیا ہے۔ ابھی تک جو مذکورہ وارداتیں سامنے آئی تھیں، ان میں کچھ نہ کچھ وجوہات کی بنیاد پر انھیں جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دہلی اور بلبھ گڑھ کے درمیان ٹرین میں صرف ۱۶؍ سالہ حافظ جنید کا قتل اور اس کے ساتھیوں پر جان لیوا حملہ بتاتا ہے کہ اب قاتل بھیڑ کے لئے کسی پر حملے کے لئے اس کی مذہبی شناخت ہی کافی ہے۔ 
ہمیں ان سلسلہ وار وارداتوں کے تناظر میں کچھ دیگر پہلوؤں کو بھی دیکھنا ہوگا۔مسلمانوں کے تئیں ملک کے ایک طبقہ میں پیدا ہوئی یہ نفرت اور ان کے اندر بھرا ہوا زہر اچانک سامنے نہیں آیا ہے۔ بلبھ گڑھ کے تازہ معاملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر کس حد تک گھر کر چکا ہے۔در اصل آج جوبے قابو قاتل بھیڑ ملک کے الگ الگ حصوں میں سڑکوں پر گھوم رہی ہے، اسے دانستہ یا نا دانستہ طور پر بہت پہلے ہی مسند اقتدار پر بیٹھے لوگوں نے یہ پیغام دے دیا تھا کہ ان کے لئے اچھے دن آئیں گے۔ نریندر مودی کے ذریعہ گجرات کے وزیر اعلی رہتے ہوئے مسلم ٹوپی پہننے سے انکار، اب وزیر اعظم بننے کے بعد رمضان اور عید کی تقریبات سے دوری، صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے دی جانے والی افطار پارٹی کا ان کے وزیروں تک کے ذریعہ غیر اعلانیہ بائیکاٹ، شدت پسند ہندو تنظیموں کے ذریعہ کھلے عام ’تحفظ‘ کے نام پر لگائے جانے والے کیمپوں میں ہتھیاروں کی ٹریننگ اور اس دوران ڈرامائی طور پر دکھائے جانے والے دہشت گردوں اور فسادیوں کو مسلمان کی طرح دکھائے جانے کا آخر کا آخر کیا مقصد تھا؟کیا اس طرح کی کارروائیوں سے ملک بھر میں بے قابو ہو جانے والے شدت پسندوں کو پیغام نہیں دیا جا رہا تھا کہ وہ اب آزاد ہیں اور مخصوص فرقہ کے خلاف جو چاہیں رویہ اختیار کریں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ آج تک درجنوں انسانیت سوز واقعات رونما ہو جانے کے باوجود کسی مجرم کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ دادری کے واقعہ میں مودی کے ایک سپہ سالار مہیش شرما مقتول اخلاق کے بجائے ملزمین کے گھر گئے اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اسی طرح راجستھان میں جب پہلو خان کو سر عام پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تو راجستھان کے وزیر نے تک اسے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ زمینی سطح پر ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیاہے ۔ ایسے میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ حکومت میں مظلومین کو انصاف ملے گا۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اگر یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا تو ہندوستان کی تاریخی گنگا جمنی تہذیب کا شیرازہ پوری طرح بکھرجائے گا۔لہذا حکومت کو اپنی آنکھوں سے تعصب کا پردہ ہٹانا ہی ہوگا۔





دیگر خبروں

2
3
4