26/07/2017


بھارت اور چین دونوں کو ضبط وتحمل سے کام لیکر مسئلہ کو سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے

سکم سیکٹر میں بھارت چین سرحد پر برقرار تعطل افسوسناک ہے۔ گزشتہ 20 دنوں سے بھوٹان تراہے کے نزدیک ڈوکلام علاقے میں ہندوستانی اور چینی سیکورٹی افواج کے درمیان تعطل بنا ہوا ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت چین کی حالیہ کارروائی سے کافی فکرمند ہے اور اس نے چینی حکومت کو یہ بتادیا ہے کہ علاقہ میں کسی طرح کی بھی تعمیر موجودہ صورتحال کو تبدیل کردیگی جس سے ہندوستان کیلئے سلامتی کے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ تاہم چین نے ہندوستان کی دلیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے ہند۔ چین تعلقات پر کسی حد تک دباؤ پڑنے لگا ہے جسے ٹالا جاسکتا تھا۔

دونوں ملکوں کی قیادت نے کافی احتیاط کیساتھ آپسی تعلقات کی نشوونما کی ہے اور انہیں اس بات پر فخر ہے کہ سرحد پر امن وامان قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے درمیان باہمی تعامل میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دونوں کےدرمیان تجارت میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اب ہندوستانی طلباء وطالبات چین میں اور چینی طلباء ہندوستان میں زیرتعلیم ہیں۔ اس پس منظر میں یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سرحد کے سکم سیکٹر میں دونوں ملکوں کے درمیان تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کی قیادت حالیہ صورتحال سے باخبر ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اس کے پاس عقل وفہم اور ذکاوت موجود ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ہند۔ چین پیچیدہ تعلقات میں ایسا واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی باتیں ہوتی رہی ہیں اگرچہ واقعہ کی نوعیت مختلف تھی۔ تاہم دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت نے اس طرح کے مسائل کو بخوبی حل کرلیا۔ ایسے  واقعات کے حل کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور ادارہ جاتی میکنزم موجود ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کو  اختلافات دور کرنے کیلئے اس میکنزم کا استعمال کرنا چاہئے۔ چین کا ایک فوجی وینگ قی (Wagn Qi)  1962 کی جنگ کے بعد ہندوستان کے علاقہ میں بھٹک کر آگیا تھا۔ وہ یہیں بھارت میں رہ کر کام کرنا چاہتا ہے۔ اور حال ہی میں جب اس نے چین جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو دونوں ملکوں نے اس کے چین جانے میں مدد کی۔

ماضی کی تلخیوں کو حال پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے۔ سرحد پر غلط فہمیوں کی وجہ سے امن وامان اور دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی وخوشحالی متاثر نہیں ہونی چاہئے۔ ہندوستان نے جب اپنے یاتریوں کیلئے کیلاش مانسرور یاترا کیلئے ناتھولادرے والے راستے کو کھولا تو وہ بہت خوش تھا۔ لیکن سرحدپر تعطل کی وجہ سے ان یاتریوں کیلئے کافی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اس لئے دونوں ملکوں کو مسئلہ کا حل جلد نکال لینا چاہئے تاکہ ان یاتریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ابھی حال ہی میں ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین کی تائید اور حمایت کے بغیر بھارت اس کا رکن نہیں بن سکتا تھا۔ اس طرح دونوں ممالک برکس (BRICS)تنظیم کے بھی رکن ہیں۔ اگرچہ برکس (BRICS)کا نیوڈیولپمنٹ بنک (New Development Bank) شنگھائی میں واقع ہے لیکن ہندوستان اس کا موجودہ چیئرمین ہے۔ اسی طرح ہندوستان بھی چین میں واقع ایشین انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ بینک کا بانی رکن ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ چین اور ہندوستان اپنے حجم کی وجہ سے مختلف ہیں اس لئے ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک ہی راستے پر چلیں گے۔دونوں ملکوں کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان میں اختلافات ہیں جیسا کہ کبھی کبھی دو بہترین دوستوں کے درمیان ہوتا ہے۔

بھارت اور چین دونوں کو ضبط وتحمل سے کام لیکر مسئلہ کو سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔ یہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امید ہے کہ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر ژی جنپنگ (Xi Jinping)  جی۔20 سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات کریں گے۔ صدر ژی (Xi) نے ایک بار کہا تھا کہ ’’جب ہندوستان اور چین ایک آواز میں بات کرتے ہیں تو ساری دنیا بڑے دھیان سے سنتی ہے‘‘۔ جناب مودی اور جناب ژی کے درمیان موجود ذاتی رابطہ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ حالیہ مسئلہ خیرسگالی کے جذبہ کے ساتھ حل ہوجائے گا۔ امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کی وجہ سے بھارت۔ چین تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے

بہ شکریہ اے آئی آر اردو سروس





دیگر خبروں

2
3
4