26/09/2017


'کلام کی خراج تحسین ہو گی کہ یعقوب میمن کی رحم کی درخواست قبول کر لی جائے '

نئی دہلی : سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے کی طرز پر  یعقوب میمن کی پھانسی پر سیاسی جماعتوں کا ردعمل بھی  تقسیم ہے ۔ بی جے پی اور شیو سینا جیسے اس کے اتحادی جماعتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے میمن کو جلد سے جلد پھانسی دئے جانے کی وکالت کر رہی ہیں لیکن کانگریسی رہنماؤں کا رد عمل بہت سنبھل کر آ رہا ہے۔

کانگریس کے منی شنکر ایر اور سی پی آئی (ایم) کی ورندا کرات کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔انہوں نے صدر کو جو دستخط رحم کی درخواست بھیجی ہے، ابھی اس پر صدر کے فیصلے کا انہیں انتظار ہے۔کچھ  لوگوں کو اب بھی صدر سے مثبت جواب کی امید ہے

کانگریس لیڈر پی ایل پونيا نے کہا کہ اس کیس کو سیاسی رنگ دینا ٹھیک نہیں۔ کیونکہ کسی بھی عدالت یا جانچ میں شامل کوئی بھی شخص کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتا۔کانگریس کے ہی رنديپ سرجےوالا نے بہت ہی صاف الفاظ میں کہا کہ کانگریس سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن ان کے مطابق اب ادھورا انصاف ہوا ہے۔سرجےوالا نے کہا کہ ممبئی بم دھماکوں میں انصاف مکمل تبھی ہو گا جب ٹائیگر میمن کو پکڑا جائے گا۔

شیوسینا کے سنجے راوت نے کہا کہ انہیں اس فیصلے سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کے سابق گورنر اور مہاتما گاندھی کے پوتے گوپالكرشن گاندھی نے کہا کہ سابق صدر کلام کو خراج تحسین پیش کرنے کی شکل میں  صدر پرنب مکھرجی کو یعقوب میمن کی رحم کی درخواست قبول کر لینی چاہئے۔

ایم پی اسد الدين اوویسی نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں اور ان کا اب بھی یہ خیال ہے کہ یعقوب کو پھانسی اس وجہ سے دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے پیچھے کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے۔

بہ شکریہ بی بی سی ہندی داٹ کا م





دیگر خبروں

2
3
4