28/07/2017


جناب والا عوام نے 'عالمی گرو' بنانے کے لئے آپ کو ووٹ نہیں دیا تھا

تحریر ابھئے کمار دوبے کی ہے

ابھئے کمار دوبے ، بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے لیے

جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے 'اچھے دن' لانے کے لئے پچیس سال کا مطالبہ کیا ہے ، فوری طور پر ہی بی جے پی کو صفائی دینی پڑ گئی۔

پارٹی نے فوری طور پر ان کی تقریر کا ویڈیو جاری کرکے بتایا کہ شاہ نے 'اچھے دن' لانے کے لئے نہیں بلکہ بھارت کو" عالمی لیڈر" بنانے کے لئے چوتھائی صدی تک بی جے پی کو جتاتے رہنے کی مانگ کی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کے پرو پیگنڈا ڈپارٹمینٹ  کا دعوی صحیح ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی، عوامی زندگی میں سرگرم لوگوں نے اس بات پر یقین کیسے کر لیا کہ امت شاہ نے یقینی طور پر ایسا ہی کہا ہو گا؟

کسی نے اس مبینہ بیان پر فطری طور پر شک کیوں نہیں کیا؟ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ دگ وجے سنگھ اور اروند کیجریوال نے ٹویٹ کرکے امت شاہ اور ان کی پارٹی کی کا مذاق اڑایا۔

صحافیوں، میڈیا یا سوشل میڈیا پر سرگرم سیاسی مبصرین نے خبر اور اس کے تردید کے درمیان تقریبا دس بارہ گھنٹوں کے دوران یہ مان ہی لیا تھا کہ حکمران پارٹی کے صدر نے ایسا کہا ہی ہوگا!

دراصل، گزشتہ تیرہ ماہ سے نریندر مودی اور امت شاہ سمیت پوری بی جے پی جس زبان میں انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کی وضاحت کر رہی ہے، اسی نے ایسا ماحول بنایا کہ لوگوں کو بےساختہ امت شاہ کے نام سے جاری کئے گئے اس بیان پر یقین ہو گیا۔

الیکشن جیتنے کے بعد سے ہی بی جے پی اس سیاسی پر کام کر رہی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کہی جانے والی باتوں کی کسوٹی پر اس حکومت کی کارکردگی کو نہیں کسا جانا چاہئے۔

جیت کے بعد بڑودرا میں دیے گئے اپنے پہلے خطاب میں ہی مودی نے اس حکمت عملی کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔

اس کے بعد ایک مکمل سلسلہ چل نکلا جس میں بار بار شہریوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ انتخابات جیتنے کے لئے لففاظی کرنی پڑتی ہے، لیکن حکومت چلانا اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ کام ہے۔

سب سے پہلے سو دن میں مہنگائی کم کرنے کے وعدے کی سنجیدگی کو بی جے پی کے ترجمان نے موسمی اور بین الاقوامی حالات کے حوالوں سے درکنار کیا۔

پھر، وزیر اعظم نے اپنی 'من کی بات' میں کہہ دیا کہ نہ انہیں پتہ ہے کہ بیرون ملک میں کتنا کالا دھن ہے اور نہ ہی پچھلی حکومت کو پتہ تھا۔

پھر امت شاہ نے اسے اور صاف کرتے ہوئے عوام کو سمجھایا کہ سب کے اکاؤنٹس میں پندرہ پندرہ لاکھ جمع کرنے کا وعدہ تو محض ایک انتخابی جملہ تھا۔

یہ اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا جب پارٹی کے انتخابی منشور میں صاف طور پر درج خوردہ کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ لانے کے وعدے سے پارٹی 180 ڈگری گھوم گئی۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے تو حکومت کے دفاع میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ 'ہم اب بھی اپنے منشور کے وعدے پر قائم ہیں، لیکن حکومت چلاتے ہوئے ہم پچھلی حکومت کی طرف سے چلائی گئی اسکیموں کو جاری رکھ رہے ہیں۔' '

کسان یہ کس طرح بھول سکتے ہیں کہ انتخابی تقریر کرتے ہوئے مودی نے ان سے بار بار کھیتی میں ہونے والے تمام اخراجات کو گناتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کی حکومت ان تمام اخراجات کے اوپر پچاس فیصد منافع دینے والا کم از کم قیمت خرید جاری کرے گی۔

اب ہم انتظار کر سکتے ہیں کہ جب بے روزگار اور کسان مودی کو ان وعدوں کی یاد دلائیں گے تو شاہ-جیٹلی کمپنی کی دلیل کیا ہوگی!

حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام نے 'عالمی  گرو'  بننے کے لئے یا 'سپر پاور' بننے کے لئے مودی کو ووٹ نہیں دیا تھا۔

ووٹروں کی تین فوری ضرورتیں تھیں۔ پہلی، مہنگائی کم ہو۔ دوسری، کرپشن گھٹے۔ اور تیسری، روزگار ملے۔

انہی تین محاذوں پر ناکامی کی وجہ سے کانگریس کی قیادت والی حکومت ہاری تھی۔ اس وقت مودی حکومت کی آنکھوں میں بدعنوانی کا مسئلہ ایک کانٹا کی طرح چبھ رہا ہے۔

یو پی اے حکومت میں  کانگریس کے وزرائے اعلی، ریاستی حکومت اور مرکز کے وزراء پر ایک ساتھ اتنے کم وقت میں اتنے الزام شاید ہی لگے تھے۔

مودی نے کہا تھا کہ '' نہ كھاوں گا، نہ کھانے دوں گا '۔ کیا اس کا جواب یہ ہونا چاہئے کہ 'یہ این ڈی اے حکومت ہے، یہاں یو پی اے کی طرح استعفے نہیں ہوتے'؟

یہی ہے وہ چھوٹی  سی تاریخ جس کی روشنی میں دیکھنے پر ایک بارگی یہ لگنے لگتا ہے کہ کہیں امت شاہ نے 'اچھے دن' لانے کے لئے اصل میں پچیس سال تو نہیں مانگ لئے تھے!

(کالم نگار سی ایس ڈی ایس میں ہندوستانی زبانوں کے  پروگرام ڈائریکٹر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     یہ مصنف کے ذاتی خیالات ہیں)

بہ شکریہ بی بی سی ہندی ڈاٹ کام 





دیگر خبروں

2
3
4