28/07/2017


’’پروہارٹ فیوژن‘‘ نامی ہربل دوا کے بارے میں میرے ایک مختصر مضمون کے شائع ہونے کے بعد

جناب ایڈیٹر صاحب

مکرمی

’’پروہارٹ فیوژن‘‘ نامی ہربل دوا کے بارے میں میرے ایک مختصر مضمون کے شائع ہونے کے بعد دلی کے کچھ اردو اخبارات میں بازاری اور لچر الفاظ سے پر ایک خبر شائع کرائی گئی ہے۔ خبر شائع کرنے والے دونوں صاحبان ، لکھنے والا اور جس کو خبر میں نقل (quote)کیا گیا ہے، اسی یونانی ادارے میں ملازم ہیں جس کو ہمارا مضمون بہت خراب لگا ہے حالانکہ براہ راست ہم نے اس ادارے کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا کیونکہ وہ اس دوا کا ہندوستان میں صرف تقسیم کنندہ ہے۔مراسلے میں مجھ پر اور ہندوستان میں یونانی طب کے ایک روح رواں پر اوچھے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ قارئین اس کا فیصلہ خود کرلیں گے۔ 

مذکورہ خبر میں ہمارے مذکورہ مضمون کو طب یونانی کے خلاف سازش قرار دیا گیا ہے اور قابل اعتراض اشتہار میں مذکور جھوٹ دوبارہ دہرایا گیا ہے کہ مذکورہ دوا کو امریکہ کی غذاودوا کی ایجنسی ایف ڈی اے کی منظوری حاصل ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے اور اسی بات نے مجھے مذکورہ دوا کے پہلے اشتہار مؤرخہ ۲ جولائی کے بارے میں لکھنے پر مجبور کیا تھا۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ دوا کو ایف ڈی اے کی منظوری نہیں حاصل ہے بلکہ دوا بنانے والی امریکی کمپنی) جو دراصل متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے) خود اپنی ویب سائٹ پر صاف طور سے لکھتی ہے کہ مذکورہ دواکو ایف ڈی اے نے نہیں پرکھا ہے اور یہ کہ مذکورہ پروڈکٹ کو کسی بھی تشخیص یا علاج کے دعوے کے ساتھ پیش نہیں کیا جارہا ہے بلکہ وہ صرف ایک ’’اضافی غذا‘‘ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہمارے مضمون کے چھپنے کے بعد شائع ہونے والے اشتہارات سے یہ نکال دیا گیا ہے کہ مذکورہ پروڈکٹ ایف۔ڈی۔اے سے منظور شدہ ہے۔

تیسرا قابل اعتراض مسئلہ یہ تھا کہ اسی طرح کی دوا اتنی ہی مقدار میں ہندوستان میں تقریباً ۵۰۰ روپئے کی ملتی ہے جبکہ یہ امپورٹڈ’’امریکن‘‘ دوا پانچ گنی زیادہ قیمت ہندوستانی صارفین سے مانگ رہی ہے ۔یہی نہیں بلکہ خود امریکی کمپنی اپنے ویب سائٹ سے خریدنے پر یہی دوا ۲۲۵ روپئے کم میں فروخت کرتی ہے! یہ ہندوستانیوں کو صاف طور سے ٹھگنے کا معاملہ ہے۔ 

ہم نے طب یونانی اور ہربل دواکے نام پر دھوکا اور ٹھگی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ورنہ ہم خود طب یونانی کے مداح ہیں اور اس کی دوائیں ذاتی طور سے استعمال کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طب سے کمانے والے نہ صرف یہ کہ جدید امراضکے علاج کے لئے نئی ادویہ بنانے میں ناکام رہے ہیں بلکہ پرانی یونانی دواؤں کو بھی کیپسول اور ٹیبلٹ کی شکل میں لانے میں ناکام رہے ہیں تاکہ ان دواؤں میں شکر کے بلا وجہ استعمال سے بچا جاسکے۔جن کی وجہ سے ذیابیطس کے شکار لوگ ان دواؤں کو استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔

ٍ ڈاکٹر ظفر الااسلام خان

ایڈیٹر ملی گزٹ 





دیگر خبروں

2
3
4