28/07/2017


سیاسی اسلام پر حملہ

مکرمی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جس دن سے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اسی دن سے خلیجی ممالک کے حالات تیزی سے بگڑنے لگے ہیں۔نا جانے ٹرمپ کی بیوی سے ہاتھ ملانے کے بعد شاہ سلیمان پر کون سا جادو اثر کر گیا ہے کہ وہ سنی مسلمانوں کے دشمن بن گئے ہیں ۔انہوں نے ایک نامحرم عورت سے ہاتھ ملاکر جس جرم کا ارتکاب کیا ہے وہ ایک مسلمان سمجھ سکتا ہے ۔انہوں نے وہ کام کیا ہے جو ایک مسلمان کے شایان شان کبھی نہیں ہوسکتا ہے ۔اب تک وہ شیعہ ملک ایران سے دشمنی نبھاتے آئے ہیں وہ بھی محض مسلک کی بنیاد پر لیکن کچھ عرصہ سے وہ سنی مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے سے دشمنی مول لے رہے ہیں۔مصر کی تاریخ میں پہلی بار انتخاب ہوتے ہیں اور جمہوری اسلامی حکومت قائم ہوتی ہے جو انہیں کانٹے کی طرح چبھنے لگی اور انہوں نے وہ کام کیا جو مغربی ممالک چاہتے تھے ۔انہوں نے ڈالروں کی برسات کر کے اخوان المسلمون جیسی دینی جماعت کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور دھٹائی کرتے ہوئے تیس ہزار اخوانیوں کا قتل کروا کر سیسی جیسے غدار فوجی افسر کو ڈکٹیٹر بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔اس بربادی میں مغربی ممالک بھی پیش پیش نظر آئے خصوصاً وہ جو جمہوریت کے علمبردار تھے ۔

شیخ سید قطب کو صرف اس بنیا د پر مصری حکومت نے پھانسی دی تھی کہ انہوں نے اعلی الاعلان کہا تھا کہ جمہوریت زوال پزیر نظام حکومت ہے اور وہ ناکام ہو چکی ہے ۔لیکن آج اسی جمہوریت کے علمبرداروں نے جمہوری حکومت پر ڈاکہ زنی کی اور سعودی ریال نے وہ کمال دیکھایا کہ سلفی مسلک النور نے بھی سعودی کا ساتھ دیتے ہوئے اخوانی سے غداری کا ثبوت دیا ۔ملک شام میں باغیوں کو برغلاکر انہیں ہتھیار کے نام پر کھلونے دئے گئے اور نتیجہ میں پانچ لاکھ عوام اب تک ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی لاکھ سمندر برد ہو چکے ہیں اور کئی لاکھ ملک بدری کی زندگی گزار رہے ہیں ۔اگر سعودی اور امریکہ چاہتا تو کب کا بشار کی حکومت ختم ہو گئی ہوتی لیکن وہ ایسا نہیں چاہتا ہے بلکہ اسلامی اور انقلابی فکر رکھنے والے کا خاتمہ چاہتا ہے ۔اسی بنیاد پر جب جب باغیوں نے جیت کا پرچم لہرایا تب تب سعودی اور امریکہ نے ہتھیار دینے بند کر دئیے اور دیا بھی تو ناقص اور صرف زمینی سطح پر مار کرنے والا ۔جبکہ وہاں زمینی سے زیادہ ہوائی جنگ چل رہی ہے ۔نہتے شامی عوام چوطرفہ گھر چکے ہیں ۔آج ایران کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی علامہ خمینی ؒ کے مزار شریف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ساتھ اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس نے لی ہے ۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی ایس امریکہ اور سعودی کا پروردہ ہے اور اس کی فنڈنگ سے لیکر کرتا دھرتا سب سعودی عرب اور امریکہ ہے ۔چونکہ علامہ خمینی ؒ کے مزار کو نشانہ بنایا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سیاسی اسلام پر حملہ ہے ۔چونکہ ایران میں اسلامی جمہوریہ نظام قائم ہے جس کے روح رواں علامہ خمینی ؒ ہیں انہوں نے ہی عربوں کو سیاسی اسلام کی دعوت دی ہے اس لئے انہیں نشانہ بنا کر اپنی بزدلی کا ثبوت پیش کردیا ہے ۔اب دنیا جو کچھ بھی کہیے آئی ایس آئی ایس سعودی کا بنایا ہوا ہی تنظیم ہے جس کا مقصد ہے دنیا میں کوئی اسلامی ریاست کا نام لے سکے بلکہ اسلامی ریاست کی بات کرنے والے دہشت گرد ہوتے ہیں یہ دنیا کو پیغام دینا ہے اور اسی کے مطابق کام کیا جا رہا ہے ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب اسلامی نظام حکومت کا دشمن ہے اسے صرف اپنے اقتدار سے محبت ہے اور اپنی بادشاہت کو قائم رکھنا مقصد ہے ۔

ان سب کے باوجود مسلمانوں کا ایک طبقہ اس کی محبت میں اس قدر غرق ہے کہ وہ اسلام کے تقاضے کو بھی فراموش کر بیٹھے ہیں ۔جس بت کو اللہ کے رسول ﷺ نے توڑا تھا اسی کو تراش رہے ہیں ۔مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے خادم الحرمین شریفین کا واسطہ دے رہے ہیں شاید وہ اللہ کے گھر کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے ہیں ۔خلافت قائم ہونے سے قبل کعبہ کے خادم کفار تھے وہ بھی حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اور ان کی خدمت کرتے تھے ۔شاید وہ سورہ فیل کو بھی بھول گئے کہ کس طرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی اور ابابیل کی فوج کے ذریعہ ہاتھیوں کے لشکر کو شکست فاش سے دوچار کیا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا عقیدہ اس قدر کمزور ہے کہ وہ اللہ کی طاقت و قدرت پر بھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔اب تو حال یہ ہے کہ سعودی حکومت کی مخالفت کو اسلام مخالف تصور کیا جا رہا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح ہمارے ملک میں حکومت کی کوئی برائی کرتا ہے تو اسے دیش سے غدار ثابت کرنے کی کوشش جکی جاتی ہے اسی طرح شاہ کی مخالفت کو دائرہ اسلام سے خارج بتا رہے ہیں۔

ہاب وقت آگیا ہے کہ آل سعودکی ظالمیانہ کارروائی زیادہ دن نہیں چل سکتی ہے بلکہ خود سعودی کے ستر فیصد عوام بادشاہی نظام حکومت کو برداشت کرنے کو راضی نہیں ہیں اور نہ عرب امارت کو لیکن یہ سب اتنے چالاک ہیں کہ ہر کسی کو ڈالر کے بدلے خرید لیتے ہیں بچے کا دودھ تک دیتے ہیں تاکہ عوام کا کوئی مطالبہ رہے ہی نہیں اور ہماری بادشاہی نظام قائم رہے ۔سعودی عرب نے چنگاری کو ہوا دی ہے کہیں ایسا نہ ہو خلافت عثمانیہ کے سقوط کا بدلہ ترکی نہ لینے لگے اور ترکی کے عوام کی جرات کو ابھی حال ہی میں دنیا نے آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح اپنی ہی مسلح فوج کو کچل دیا ہے ۔کہیں سعودی حکومت کے لئے سیاسی اسلام ،اسلامی ریاست ،حماس اخوان المسلمون اور قطر پر پابندی تابوت میں آخری کیل نہ ثابت ہو جائے ۔

فلاح الدین فلاحی 8130184506





دیگر خبروں

2
3
4