پیاری بہنو اور بیٹیو ! آپ کا یہ عمل درست نہیں ہے

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

یہ اصلاً عالمی سطح پر بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے

ظالمانہ قوانین کے خلاف پورے ملک میں جو احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں خاص طور پر طلبہ ، طالبات ، نوجوانوں ، دوشیزاؤں اور خواتین کی شمولیت بہت خوش آئند ہے _ جنوبی دہلی کے علاقے 'شاہین باغ' کو اس معاملے میں عالمی طور پر شہرت حاصل ہوئی ہے ، جہاں دو ماہ سے خواتین ڈٹی ہوئی ہیں اور دن رات مسلسل احتجاجی مظاہرہ کرکے ان ظالمانہ قوانین کے خلاف اپنی ناراضی اور بے اطمینانی ظاہر کررہی ہیں _ ان کی نقل میں پورے ملک میں تقریباً دو سو 'شاہین باغ' آباد ہوگئے ہیں _

یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ ملک کے تمام طبقات ان مظاہروں میں شریک ہیں ، خواہ وہ سیکولر ہوں یا کمیونسٹ یا کسی مذہب کو ماننے والے _ چنانچہ ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ سکھ بھائیوں کی بھی بڑی تعداد ہم قدم ، ہم دوش اور ہم آواز ہے اور کمیونسٹ لوگ بھی پوری طاقت کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں _ اس طرح حکم رانوں تک یہ پیغام جا رہا ہے کہ اس قانون کی مخالفت صرف مسلمان ہی نہیں کررہے ہیں ، بلکہ پورا ملک شریک ہے _

ابتدا میں ان مظاہروں میں بعض پُرجوش مسلم نوجوانوں نے لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے تو ان سے کہا گیا کہ مظاہروں کو مذہبی رنگ نہ دیا جائے _ یہ بات کہنے والوں میں میں بھی شامل تھا _ اس لیے کہ میرے نزدیک یہ حکمتِ عملی کے خلاف ہے _ اس وقت یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ ان قوانین کی مخالفت صرف مسلمان ہی نہیں کررہے ہیں ، بلکہ ان کے ساتھ ملک کے تمام شہری شامل ہیں ، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ان میں ایسے نعروں کو رواج دیا جن سے ملک کے تمام شہریوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کا اظہار ہوتا ہو _

موجودہ حالات میں ملک کے تمام طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے _ فرقہ وارانہ ہم آہنگی یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو _ اس کے ساتھ وہ باہم شِیر و شَکر ہوکر رہیں _ لیکن بعض لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت ترک کردیں اور برادرانِ وطن کے رنگ میں رنگ جائیں _ چنانچہ انھوں نے کمال ہوشیاری سے ان مظاہروں میں اس چیز کو رواج دینے کی کوشش کی اور سادہ لوح مسلم نوجوان اور خواتین بغیر سوچے سمجھے اس کا شکار ہوگئے _

دیکھنے اور سننے میں آیا ہے کہ ان مظاہروں میں بعض لوگوں نے 'بھارت ماتا کی جے' یا اس جیسے دوسرے شرکیہ نعرے لگائے تو مسلمان بھی وہ نعرے لگانے لگے ، ہَوَن اور پراتھنا کی گئی تو مسلمان بھی ان میں شامل ہوگئے _ ایک مسلم خاتون نے پیشانی پر بندیا لگالی اور اپنی ہیئت غیر مسلم عورت کی بناکر پریس رپورٹر سے کہنے لگی : پہچانو ، میں کون ہو؟ یہاں تک کہ آج مسلم خواتین سے وہ کام کروالیا گیا جسے کسی طرح پسندیدہ نہیں قرار دیاجاسکتا _ 14 فروری کو پوری دنیا میں 'ویلنٹائن ڈے' (یومِ عاشقان) کے نام سے منایا جاتا ہے _ اس دن غیر شادی شدہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں محبت کے جھوٹے عہدوپیمان کرتے ہیں _ یہ اصلاً عالمی سطح پر بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے _ آج کے دن کمال عیّاری کے ساتھ شاہین باغ کی بہنوں اور بیٹیوں کے ہاتھوں میں ویلنٹائن ڈے کے پوسٹر تھما دیے گئے _

میرے لیے خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ متعدد نوجوانوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنے اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ان مظاہروں میں شرکیہ نعرے لگانے میں مسلمانوں کی شرکت درست ہے؟ میں نے صاف الفاظ میں انہیں جواب دیا ہے کہ بالکل درست نہیں _
میرے لیے خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ شاہین باغ کی متعدد خواتین نے مجھ سے رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا مسلم خواتین کا دیگر مذاہب کے شِعار اپنانا اور غیر اسلامی کلچر کے مظاہر اختیار کرنا درست ہے؟ میں نے انہیں صاف الفاظ میں جواب دیا ہے کہ بالکل درست نہیں .


یہی بات میں اپنی دوسری بہنوں اور بیٹیوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں _

عِفّت مآب بہنو اور پیاری بیٹیو !


آپ ظالمانہ قوانین کے خلاف دو ماہ سے ڈٹی ہوئی ہیں _ واقعہ یہ ہے کہ آپ اس معاملے میں مردوں سے آگے بڑھ گئی ہیں _ آپ کا جذبہ مبارک _ اللہ تعالیٰ آپ کی جدّوجہد کو قبول کرے اور اس کے اجر سے نوازے _ لیکن آپ کو ہوشیار رہنا ہے _ ایسا نہ ہو کہ کچھ عیّار اور مکّار لوگ آپ کی معصومیت اور سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر آپ کو بہکادیں اور غلط راہ پر ڈال دیں _ ان مظاہروں کو فرقہ واریت سے بچانا اور ان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ایسے نعرے لگانے لگیں جو آپ کے ایمان و عقیدہ کے خلاف ہوں ، آپ ایسے کام کرنے لگیں جن سے آپ کی مسلم شناخت گُم ہوجائے ، آپ اپنی ایسی ہیئت بنالیں کہ آپ کو دوسرے مذہب کا سمجھا جانے لگے ، آپ اپنے ہاتھوں میں ایسے پوسٹر ، بینر اور پلے کارڈ اٹھالیں جن سے عِفّت اور شرافت پر حرف آنے لگے _

اگر آپ نے ہوشیاری اور بیدار مغزی نہ دکھائی اور اپنی مسلم شناخت گُم کردی تو یہ بڑے خسارے کا سودا ہوگا _
اللہ تعالٰی آپ کو محفوظ رکھے، آمین _

0 comments

Leave a Reply