سیاست، جرائم اور پولیس کی آمیزش

 

Image may contain: one or more people and beard
ڈاکٹر یامین انصاری ۔۔۔۔ صدائے دل

جرائم پیشہ افراد اور سیاست کا ہمیشہ سے ہی گہرا تعلق رہا ہے۔کوئی بھی سیاسی جماعت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ جرائم پیشہ افراد سے اس کا دامن پاک ہے۔ وقتاً فوقتاً اس کے ثبوت بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سطح پر ہونے والے انتخابات کا تو کیا شمار، جب بھی اسمبلی یا لوک سبھا انتخابات آتے ہیں، یہ اعداد و شمار بار بار پیش کئے جاتے ہیں کہ فلاں جماعت کے اتنے جرائم پیشہ افرادامیدوار ہیں اور فلاں جماعتکے اتنے فیصد قاتل، زانی، لٹیرے اور بد عنوان امیدوار ہیں۔ بعد از انتخابات انہی میں سے کتنے فیصد اور کس پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے، وہ بھی اعداد و شمار سب کے سامنے آتے ہیں۔ ایسا ایک بار نہیں، بار بار ہوتا ہے، بلکہ ہر انتخاب کے بعد ہوتا ہے۔ نہ کوئی سیاسی جماعت ایمانداری سے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے اور نہ ہی کوئی حکومت غیر جانبداری کے ساتھ جرائم اور سیاست کی آمیزش پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ شاید اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ کانپور میں افسر سمیت ۸؍ پولیس اہلکاروں کو بہیمانہ طریقہ سے قتل کر دیا جاتا ہے۔
اسی سبب یوپی کے ہی کُنڈا میں ڈی ایس پی ضیاء الحق کو دن دہاڑے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور شاید جرائم اور سیاست کی آمیزش کا ہی نتیجہ ہے کہ بلند شہر میں سر عام انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا جاتا ہے اور جلد ہی جب ان کے قاتل ضمانت پر رہا ہوتے ہیں تو پھولوں کے ہار پہنا کر اور بڑے فخریہ انداز میں نعرے بلند کرکے ہیرو کی طرح ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ حال ہی میں پیش آنے والی چند مثالیں ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس طرح کی انگنت کہانیاں ہمیں دیکھنے کو مل جائیں گی۔ 
 
یو پی کی اگر بات کریں تو کانپور کے تازہ واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ساتھ ہی اس واقعہ نے یوگی حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ جرائم اور سیاست کی آمیزش کے قصے تو بار بار ہم سنتے رہے ہیں، لیکن اس بار جرائم اور سیاست کے ساتھ پولیس کے گٹھ جوڑ کی جو کہانی سامنے آئی ہے، وہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مجرموں یا دیگر لوگوں کے ذریعہ پولیس کے لئے مخبری کی ایک تاریخ رہی ہے، لیکن شاید یہ پہلی بار سامنے آیا ہے کہ پولیس خود جرائم پیشہ افراد کے لئے مخبری کرتی ہے۔ ایک داروغہ اور کئی پولیس اہلکاروںکی اسی بنیاد پر معطلی ثابت کرتی ہے کہ اب سیاست اور جرم کے ساتھ پولیس کی بھی آمیزش ہو چکی ہے۔یہ اسی لئے ممکن ہوا ہے کیوں کہ کوئی بھی سیاسی جمارت یا کوئی حکومت ایمانداری سے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔ اس طرح کے معاملات اگرچہ ملک بھر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن ان میں شاید یو پی سب پر سبقت لے جاتی ہے۔ ریاست میں نظم و نسق کے بارے میں یوگی حکومت کے دعوؤں کی قلعی تو پہلے ہی کھل چکی ہے ، اب یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ یو گی کی ’انکاؤنٹر پالیسی‘ سے نہ تو جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے اور نہ ہی مجرموں میں کوئی خوف بٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ اس لئے بھی کیوں کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر ریاست میں سیکڑوں بدمعاشوں اور مجرموں کا انکاؤنٹر کرنے والی پولیس نے کانپور کے خطرناک مجرم وکاس دوبے کے خلاف۶۰؍سے زائد مقدمات درج ہونے کے باوجود اسے کیسے چھوڑ رکھا تھا؟
کیا پولیس کے نزدیک وہ کوئی معمولی مجرم تھا یا پھر وہ پولیس سے بھی اوپر اپنا اثر و رسوخ رکھتا تھا؟یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے ریاست کو جرائم اور مجرموں سے پاک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت خود ان کے خلاف بھی متعدد مجرمانہ مقدمات درج تھے۔بعد میں انھوں نے ان سبھی مقدمات سے نجات حاصل کر لی۔وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھتے ہی انھوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا، اس پر ہمیشہ ہی سوالیہ نشان لگتے رہے۔ چاہے وہ مجرموں کو ’ٹھونک ‘ دینے والا جملہ ہو یا مظاہرین سے ’بدلہ‘ لینے کی بات ہو۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کی پالیسی اور ارادوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کرنے والے مہینوں سے سلاخوں کے پیچھے ہیں اور مخصوص جماعت یا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔ اگر یو گی آدتیہ ناتھ نے ’ٹھونک دینے‘ یا ’بدلہ لینے‘ کے بجائے بلا امتیازاور ایمانداری سے کام کرنے کی کوشش کی ہوتی تو شاید بلند شہر یا کانپور جیسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ قصوروار کوئی بھی ہو، کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی گروہ سے منسلک ہو، کسی بھی فرقہ سے متعلق ہو حکومت اور قانون اگر بلا امتیاز کام کرےگا تو یقیناً قانون کی بالادستی قائم ہوگی۔ جو بھی مجرم ہو ، قصورور ہو ، اسے ضرور سزا ملنی چاہئے۔
 
 یوپی میں شروع سے ہی یوگی حکومت کی ’انکاؤنٹرپالیسی‘ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اکثر انکاؤنٹر کو شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لکھنؤ کاوویک تیواری انکاؤنٹر کیس کافی موضوع بحث رہا تھا، جس کے بعد پولیس کو کافی سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس معاملے میں دو پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کیاگیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلےنوئیڈا میں ایک جم آپریٹر کو آپسی رنجش میں ایک سب انسپکٹر نے گولی مار کر ہلاک کردیا، بعد میں انکاؤنٹر بتا دیاگیا۔ کیس کی چھان بین کے بعد انسپکٹر کا دعویٰ غلط نکلا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
صرف یہی نہیں ، انکاؤنٹر کے کچھ معاملات ایسے بھی سامنے آئے ہیںجن میں پولیس اہلکاروں نے ترقی کے لالچ میں بے گناہ لوگوں کو ہلاک کردیا۔ ایسے معاملات کی بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ گذشتہ سال ایک این جی او نے انکاؤنٹر کے کچھ معاملات کا جائزہ لینے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ اس میں ۱۶؍ معاملات ایسے پائے گئے تھے جو تمام تحقیقات کے بعد انکاؤنٹرس کی درستگی پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔
اترپردیش کے سینئر پولیس افسر رہے وی این رائے کا کہنا ہے کہ ’ انکاؤنٹر وںکی تعداد میں اضافہ کرکے جرائم کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ جعلی انکاؤنٹر ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جس طرح یوپی میں پچھلے کچھ عرصے سے انکاؤنٹروں کی اطلاعات آرہی ہیں ، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو صحیح نہیں ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ تمام انکاؤنٹر میں پولیس نے ایسے لوگوں کو ہلاک کیا جو کبھی کسی جرم میں ملوث نہیں تھے۔
آخر کار پولیس ایسے لوگوں کو کیسے مجرم قرار دے سکتی ہے۔‘ ۲۰۱۷ء میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق جعلی انکاؤنٹر کی شکایات کے معاملات میں اتر پردیش پولیس ملک میں سب سے آگے ہے۔ کمیشن نے گذشتہ بارہ سال کے اعداد و شمار جاری کئے تھے ، جس میں ملک بھر سے جعلی انکاؤنٹر کی مجموعی طور پر۱۲۴۱؍ شکایات کمیشن کے پاس پہنچی تھیں ، ان میں سے۴۵۵؍ معاملات یوپی پولیس کے خلاف تھے۔یو پی حکومت اور خود وزیر اعلی اکثر یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ حکومت کی کارروائی سے خوفزدہ ہو کر تمام مجرم اپنی ضمانت منسوخ کرواکر یاتو جیل چلے گئے ہیں یا پھر ریاست سے چلے گئے ہیں، لیکن یوپی میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتیںحکومت کے ان دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان لگا تی ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنے ہوئےاور یہ دعویٰ کئے ہوئے تین سال ہوگئے کہ مجرم یا تو جیل میں رہیں گے یا انہیں سزا دی جائے گی۔ کانپور واقعہ سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ مجرم نہ تو جیل میں تھا اور نہ ہی وہ انکاؤنٹر پالیسی سے خوفزدہ تھا۔ کانپور کا تازہ واقعہ جرائم پیشہ افراد ، پولیس اور سیاست کی آمیزش کی زندہ مثال بھی ہے اور وکاس دوبے جیسے خطرناک مجرم جرائم کے سیاسی تحفظ کی پیداوار بھی ہیں۔اس ضمن میں یہی کہا جا ستا ہے کہ اگر یوپی حکومت اور پولیس نے مجرموں کے درمیان امتیازی سلوک نہ کیا ہوتا تو کانپور میں پولیس پر اے کے ۴۷؍ جیسے ہتھیاروںسے فائرنگ نہ کی ہوتی اورپولیس کے ۸؍ جوانوں کو جان سے ہاتھ دھونا نہیں پڑتا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

0 comments

Leave a Reply