کیرالا کے گورنر عارف محمد خان کے نام کھلا خط

می لارڈ! یہ وقت پھر سے ضمیر کی آواز پر بولنے کا ہے

محمداحمد

لائق بہ صدر احترام گورنر کیرالا!امید ہے کہ مزاج گرامی شگفتہ ہوگا۔ آپ رب لم یزل کے فضل سے ہماری مو جودہ حکومت (مودی سرکار2.0)کے ذریعہ دی گئی اس نعمت سے کلی طور سے محظوظ ہورہے ہوں گے جو فانی ہے۔ ساتھ ہی آپ امبیڈکر کے آئین کو کچلنے اور اپنے ہیڈ کوآرٹر پر 52سالوں تک ترنگا نہ پھہرانے اور مسلم لیگ کے ساتھ مل کر سرکار چلانے والوں کی اس امید کے ساتھ پوری طاقت سے حمایت کررہے ہوں گے کیونکہ کیرالا سے اگر رائے سینا ہل کی پہاڑیاں بہت قریب نہیں تو بہت دور بھی نہیں ہیں۔ اس دوری کو قربت میں بدلنے کیلئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کی حمایت کی جائے جن کو آزادی کے نعروں سے نفرت ہے اور یہ نفرت بجاہے کیونکہ وہ آزادی کی جنگ میں انگریزوں کے مخبر تھے اور جناح پریمیوں کا ساتھ دیا جائے جنہوں نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر سرکار چلائی۔

آپ کے موقف نے مجھے یہ خط لکھنے کیلئے مجبور کیا 

اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ پوری طرح اپنے ان اصولوں کی قربا نی دیں جو اب تک آپ کی شناخت رہے ہیں اور جن کی وجہ سے آپ دوسروں سے اب تک ممتاز تھے۔ اس وقت وطن عزیز کے جو حالات ہیں اس تناظر میں آپ کے موقف نے مجھے یہ خط لکھنے کیلئے مجبور کیا ہے۔

مجھے آپ جیسے بردبار اور مہمان نواز انسان سے یہی توقع ہے

مجھے آپ جیسے بردبار اور مہمان نواز انسان سے یہی توقع ہے کہ جب یہ تحریریں آپ تک پہونچیں گی توآپ ضرور ان پر اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ فرمائیں گے،کیونکہ آپ کی پہچان ایک لکھنے اور پڑھنے والے شہری کی ہے۔ اسی لئے میں اپنا وطنی فریضہ سمجھتے ہوئے آپ کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کررہاہوں۔ اس امید کیساتھ کہ مجھے بہرحال آپ جیسی سنجیدہ شخصیت سے جواب کی امید ہے، حالانکہ آپ کی سنجیدگی پر آئین پر حملہ کرنے والوں کی حمایت کے بعد سوال اٹھا ہے اور یہ لازمی امر ہے۔ آپ بہ خوبی جانتے ہیں کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسا کہ آپ کے سامنے یہ چیز پہلے سے واضح ہے اور یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ میں متعدد مسائل میں آپ کا مداح رہا ہوں۔

یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ میں متعدد مسائل میں آپ کا مداح رہا ہوں
 جناب والا!جس وقت ملک کے سابق لائق و فائق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جی نے ہندوؤں کیلئے ’وی‘ اور مسلمانوں کیلئے ’دے‘ کا فارمولہ دیا تھا اس وقت آپ نے اس کا نوٹس لیا اور آپ نے ان کو ایک تفصیلی خط تحریر کیا، جو بعد میں بہت سے اخبارات کی زینت بنا جس پر بہ قول آپ کے اٹل جی نے آپ کی ستائش کی تھی اور کہاتھا کہ عارف میرے ساتھ آجاؤ۔ میں وہی کرنا چاہتا ہوں جو تم سوچتے ہو، لیکن اٹل جی جیسے عظیم رہنما کی قیادت میں آپ جیسے ذی شعور انسان نے کام کرناکیوں نہیں مناسب سمجھا مجھے نہیں معلوم، لیکن آپ ان لوگوں کے ساتھ کیوں چلے گئے جنہوں نے انسانوں کی تشبیہ کتے کے بچے سے دی تھی ا س کا جواب بھی می لارڈ دنیا منتظر ہے۔

جب ملائیت کے مکڑ جال میں پوری طرح گھر چکی راجیو گاندھی سرکار نے

می لارڈ!جب ملائیت کے مکڑ جال میں پوری طرح گھر چکی راجیو گاندھی سرکار نے قرآن کریم اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف پارلیمنٹ میں بل پاس کیا اس وقت آپ نے ضمیر کی آواز پر راجیو کابینہ سے استعفیٰ دے دیا اور بہ قول آپ کے آپ نے راجیو سرکار کے متعدد وزراء بہ شمول نرسمہا راؤ (بابری مسجد شہادت کے اصلی اور کلیدی ملزم جنہوں نے آپ ہی سے کہاتھا کہ مسلمان اگر گٹر میں رہنا چاہتے ہیں تو رہیں آپ ان کی فکر کیوں کررہے ہیں) کی لاکھ کوششوں کے باوجود آپ نے اپنے فیصلے پر اس لئے نظر ثانی نہیں کی،کیونکہ اس بل کے خلاف آپ نے پارلیمنٹ کا ایک لمبا وقت بولنے کیلئے لے لیا تھا

گاندھی جی نے انگریزوں کے وفاداروں کو بھی ملک کا غدار نہیں کہا  

لیکن یہاں بھی آپ نے ضمیر کی آواز سنی اور بل کے حق میں ووٹ کیا کیونکہ آپ پارٹی وہپ سے بندھے تھے۔ می لارڈ!جس آدمی کا ماضی اتنا تابنا ک ہو اور جس نے ضمیر کی آواز پر اقتدار کو ٹھوکر مار کر سیاست سے یہ کہہ کر پہلو تہی اختیار کرلی ہو کہ اب وہ پڑھنے لکھنے اور ریسر چ میں وقت لگانا چاہتا ہے اب اگر وہ ان لوگوں جو ہٹلر کو اپنا آئیڈیل سمجھتے اور ترنگے کو فال بد مانتے ہیں۔ساتھ ہی یوسف مہرعلی کے ذریعہ انگریزوں بھارت چھوڑو کا نعرہ دینے کے بعد بھی انگریزوں سے وفاداری کی، لیکن قربان جایئے گاندھی جی کی ہستی پر کہ انہوں نے انگریزوں کے وفاداروں کو بھی ملک کا غدار نہیں کہا۔ساتھ ہی اپنے مضمون ہندتو کے ذریعہ 1923میں ہی دو قومی نظریہ کی بنیاد ڈال دی کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا تو اس پر تو لوگوں کو دکھ ہوگا ہی اور یہ خط شاید اسی تکلیف کے اظہار کا مظہر ہے۔

یہ تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جب آپ یہ کہتے ہیں 

می لارڈ!یہ تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جب آپ یہ کہتے ہیں کہ مولانا آزاد نے تقسیم کے سنگین نتائج سے آگاہ کیاتھا،لیکن یہ نہیں بتاتے کہ جناح نے بھی 1945میں کہاتھاکہ جو مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے ان کو ہمیشہ اپنے بھارتیہ ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا۔ سرکار ہماری دعا ہے کہ تصویر کے دونوں رخ غلط ثابت ہوں لیکن آپ تو دونو ں کو صحیح ثابت کرنے پر آمادہ ہیں۔

کیا ہمارا چوٹی والے کو چننا گناہ تھا؟ 

ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے ایک ٹوپی والے کو چھوڑ کر ایک چوٹی والے کو چنا تھا لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ کیا ہمارا چوٹی والے کو چننا گناہ تھا؟کہ آج ہم سے ہماری شہریت اور حب الوطنی کا ثبوت مانگا جا رہا ہے۔ کیا عبدالحمید کی قربانیاں، خان عبدالغفار کے کارنامے اور جنرل شاہنواز سے لے کر مولانا آزاد اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسے ان گنت لعل وگوہر ہماری حب الوطنی کی سند کیلئے کافی نہیں ہیں۔ صاحب! ہم تو کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دو الگ مذہب پر عمل کرتے ہوئے بھی لکم دینکم ولی دین کے مصداق ایک ملک میں رہ سکتے ہیں، لیکن تم بھی تو بتاؤکہ ہندو اور مسلمان دونوں کو دو الگ قومیں بتانے اور الگ الگ رہنے کا پروچن 1923میں دینے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ جناح بھارت کا دشمن تھا،لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ گوڈسے محب وطن کیسے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ 1947میں بھارت کا سینہ چیرنے والے ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے اراکین تھے، لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ1923میں ہندتوا کے ذریعہ دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا قائد کیوں نہ کہا جائے؟

اللہ اکبر کا نعرہ دے کر انسانوں کی جان لینے والے دہشت گرد جے شری رام کہہ کر ’ہے رام‘ کہنے والے کو گولیوں سے بھون دینے والے محب وطن کیسے؟ 

ہم تو کہتے ہیں کہ اللہ اکبر کا نعرہ دے کر انسانوں کی جان لینے والے دہشت گرد ہیں لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ جے شری رام کہہ کر ’ہے رام‘ کہنے والے کو گولیوں سے بھون دینے والے محب وطن کیسے؟ہم تو کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر داعش بنا کر انسانوں کی جان لینے والے دہشت گرد ہیں، لیکن تم بھی تو بتاؤ بھگوان رام کا نام لے کر اخلاق سے لے کر جنیداور تبریز کا قتل کرنے والے رام بھگت کیسے؟ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے دھرم کو القاعدہ سے لے کر داعش تک وہ تمام سنگٹھن جو انسانوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں نے ہائی جیک کررکھا ہے لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ رام بھگتی کو چولا اوڑھ کر جے شری رام کا نعرہ دے کر دھارمک انماد پھیلانے والے وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سناتن دھرم کو ہائی جیک کررکھا ہے، کیونکہ ہندو تو کوئی دھرم ہی نہیں ہے پھر ہندتوا’وے آف کلچر‘ کیسے؟

ملالہ پر حملہ کرنے والے آتنک وادی آئشی گھوش پر حملہ کرنے والے محب وطن کیسے؟ 

 ہم تو کہتے ہیں کہ ملالہ پر حملہ کرنے والے آتنک وادی تھے،لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ آئشی گھوش پر حملہ کرنے والے محب وطن کیسے؟ہم تو کہتے ہیں کہ افغانستان میں گوتم بدھ کی پرتیما پر حملہ کرنے والے آتنک وادی تھے، لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ سپریم کورٹ سے لے کر پارلیمنٹ اور نیشنل انٹیگریشن کاؤنسل کی یقین دہانیوں کے باوجود بابری مسجد پر حملہ کرنے والوں کو کس زمرے میں رکھا جائے؟

رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں کا کنکشن کس دیش سے تھا اور وہ وطن دوست کیسے؟ 

ہم تو کہتے ہیں کہ آرمی اسکول پرحملہ کرنے والے آتنک وادی تھے،لیکن تم بھی تو بتاؤ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دیش بھگت کیسے؟ہم تو کہتے ہیں کہ عارف محمدخان پر جامعہ نگر میں لائٹ کاٹ کر مشیر الحق کے جنازے کے دوران راڈ سے حملہ کرنے والے آتنک وادی تھے،لیکن تم بھی تو بتاؤ دن کے اجالے میں احسان جعفری کو زندہ جلادینے والے آتنک وادی کیوں نہیں؟ اور اگر شاہین باغ میں بیٹھے لوگوں کاکنکشن  پاکستان سے ہے تو پھر رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں کا کنکشن کس دیش سے تھا اور وہ وطن دوست کیسے؟

بھارت کو دوسرا پاکستان بنانے والے دیش بھگت کیسے؟ 

ہم تو کہتے ہیں کہ پاکستان کا بننا بھی غلط اور بنانے والے بھی غلط لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ بھارت کو دوسرا پاکستان بنانے والے دیش بھگت کیسے؟ہم تو کہتے ہیں کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والے وطن کے سچے ہمدرد تھے لیکن تم بھی تو بتاؤ کہ انگریزوں سے معافی مانگنے والے وطن دوست کیسے؟ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے جو شہیدبھگت سنگھ کے کیس میں بھگت سنگھ کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے؟ می لارڈ بات نکلی ہے تو بہت دور تلک جائے گی۔مسلمانوں کا یہی قصور ہے نہ کہ انہوں نے گاندھی جی، پنڈت نہرو اور امبیڈکر کی یقین دہانیوں پر یقین کیا اور اگر ان پر یقین کرنا جرم تھا تو یہ جرم ہم ایک بارنہیں ایک ہزار بار کریں گے، کیونکہ ہم نے پٹیل پر یقین کرکے ریزرویشن کو چھوڑا تھا اور گاندھی پر یقین کرکے بھارت کو چنا تھا۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مسلمانوں نے سائمن کمیشن میں امبیڈکر کا ساتھ دیا؟ 

می لارڈ!اس وقت سچ میں وطن عزیز کو پاکستان بنانے کی سازش ہورہی ہے اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ جان کر اس میں معاون ہیں کیونکہ نادانی کی آپ سے توقع نہیں کی جاسکتی۔سی اے اے پر آپ کا موقف بلاشبہ آئین پر طمانچہ ہے اور ان لوگوں (سید شہید سہروردی وزیراعظم بنگال1946) کی روح کو بے چین کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے 1946میں مسلمانوں کے کوٹے سے امبیڈکر کو راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ورنہ تو یہ کہہ دیا گیا تھاکہ امبیڈکر کیلئے پارلیمنٹ کے دروازے ہی نہیں کھڑکیا ں اور روشن دان بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔شاید اسی امبیڈکر کے آئین کو کچل کر امبیڈکر وادیوں کو شودر بنانے کی کوشش کرنے والوں کے آپ مددگار بن رہے،کیونکہ امبیڈکر ان لوگوں کو سخت ناپسند ہیں جن کے ساتھ آپ فی الوقت ہیں۔ می لارڈ! کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مسلمانوں نے سائمن کمیشن میں امبیڈکر کا ساتھ دیا؟

اس لئے نہیں سمجھنا چاہتے کہ آپ رائے سینا ہل کی وادیوں میں محو خواب ہیں؟

 ساوتری بائی پھولے کو گلے لگایا، امبیڈکر کو روزہ افطار کرایا اور امبیڈکر بھگتوں سے کتنے پریشان تھے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہندودھرم میں پیدا ہونا میری مجبوری تھی اور ہندودھرم میں نہ مرنا یہ میرے اختیار میں ہے اور انہوں نے ہندتوا کو ابھیشاپ تک کہہ ڈالا۔می لارڈ! آپ کہتے ہیں کہ سی اے اے آئین پرحملہ نہیں بلکہ مظلوموں کی داد رسی کی کوشش ہے تو مجھے دکھ بھی ہوتا ہے اور افسوس بھی۔

آخر سی اے اے لانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

 شاید آپ اپنی ذہانت کے باوجوداسے اس لئے نہیں سمجھنا چاہتے کہ آپ رائے سینا ہل کی وادیوں میں محو خواب ہیں۔ خدا کرے وہ شرمندہئ تعبیر ہو جائے، لیکن ذرا یہ تو بتائیں آخر سی اے اے لانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا سرکار کو اس  سے پہلے کسی کو شہریت دینے کا اختیار نہیں تھا؟ اگر نہیں تھاتو پھر 1965کی جنگ میں بھارت کے ایک لڑاکو جہاز،15ٹینکوں اور 12گاڑیوں کو تباہ کرنے والے فلائٹ لیفٹیننٹ ارشد سامی کے بیٹے عدنان سامی کو شہریت کیسے دی گئی؟ اٹلی سے لے کر پوری دنیا میں بسنے والے ہرمذہب کے لوگوں کو بھارت نے کس قانون کے تحت اپنایا؟مطلب صاف ہے کہ سی اے اے پردے کے پیچھے سچ میں کوئی سازش ہے۔ کیا بھارت میں 2019سے پہلے کوئی قانون مذہب کی بنیاد پر بنا؟

اگر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن جائز نہیں تو پھر شہریت کیسے جائزہوگئی؟

اگر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن جائز نہیں تو پھر شہریت کیسے جائزہوگئی؟آپ ہی بتائیں سی اے اے میں مذہب کا تڑکا لگانے کی ضرورت کیا تھی؟ ہم عالمی فورم پر ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ذاتی معاملہ ہے تو پھر پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے لوگوں کے مابین فرق اور تمیز کرکے ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کیوں؟ کیا یہ کورا جھوٹ نہیں کہ پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی گھٹی ہے، کیونکہ انڈیا ٹوڈے اور بی بی سی کی رپورٹ اور مردم شماری کے اعداد وشمار بھی ہندوؤں کی آبادی بڑھنے کی گواہی دے رہے ہیں۔

آپ اورنگ زیب کے اکھنڈ بھارت کی بات کررہے ہیں؟

جب آپ بنگلہ دیش پاکستان اور افغانستان کے اقلیتوں کی ہمدردی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ آپ اس اورنگ زیب کے اکھنڈ بھارت کی بات کررہے ہیں جسے ہمارے بھارت میں ولن بناکر ہندوؤں کے قاتل کے طور پر پیش کیا گیاہے۔مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ڈاکٹربی این پانڈے اور رام پنیانی جی کے اورنگ زیب کے بارے میں خیالات پر بھی گفتگو کرنی چاہئے اور اس کتاب کو پڑھنا چاہئے جس کا ٹائٹل ہے ’ہندو مندر اور اورنگ زیب کے فرامین‘۔ تاریخ کے ان صفحات کو بھی دنیا کو بتانا چاہئے جس میں لکھا ہے کہ اورنگ زیب نے چین کے ساتھ جنگ کرکے کیلاش مان سروور کی یاترا ہندو بھائیوں کیلئے شروع کرائی۔میں بالکل نہیں کہتا کہ اورنگ زیب فرشتہ تھے لیکن می لارڈ ایسا نہیں ہے کہ

تمہیں لے دے کہ ساری داستاں میں بس یاد ہے اتنا
 
کہ اورنگ زیب ہندو کش تھا ظالم تھا ستمگر تھا

کیوں نہیں ڈاکٹر فریدی کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ ملا لیا گیا؟

می لارڈ! جب بات بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا کی ہوتی ہے تو گفتگو ان پر بھی ہونی چاہئے جنہوں نے بنگلہ دیش بنوایا اور جنہوں نے بنگلہ دیش بنوانے والوں کو ماں درگا کا اوتار بتایا۔اور اگر ہم سینہ ٹھونک کر کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کے ٹکڑے کئے تو ہمیں ان لوگوں کے عزت وناموس کی حفاظت بھی کرنی چاہئے، جنکی خاطر ہم نے پاک فوج کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے مجبور کیا۔ اگر سچ میں ہمیں بنگلہ دیشی گھس پیٹھے سے پریشانی تھی اور ہے تو پھر کیوں نہیں ڈاکٹر فریدی کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو بھارت کے ساتھ ملا لیا گیا؟جب ہم پاکستان میں صرف اقلیتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صاف ہے کہ پاکستان میں شیعوں، احمدیوں، قادیانیوں اور بلوچیوں پر مظالم کے جو قصے ہم دنیا کو سنایاکرتے تھے وہ کورے جھوٹ تھے۔ می لارڈ! اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے وہ سرزمین تو دیکھی ہی نہیں لیکن اٹل جی کی اس سرزمین کے بارے میں رائے ضرور سن لیجئے، جنہوں نے لاہور دورے کے دوران 11ویں صدی کے مشہورشاعر مسعود بن سعد بن سلمان کی دولائنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا: لاہور کی حسرت میں میری آتما امڑی پڑتی ہے۔ او خدامجھے اس کی کتنی حسرت ہے‘۔ حالانکہ می لارڈ ہمیں اس کی کوئی حسرت نہیں ہے۔

اگر سچ میں مظلوموں سے ہمدردی ہے تو پھر سوامی وویکا نند کی سوچ پر حملہ کیوں؟

می لارڈ! جب آپ کہتے ہیں کہ سی اے اے گاندھی نہرو کے خوابوں کی تکمیل ہے تو پھر سی اے اے سے پہلے جن لوگوں کو شہریت دی گئی تو کیا وہ انگریزوں سے معافی مانگنے والوں کے خوابوں کی تکمیل تھی اور سوامی وویکانندکے ارمانوں کا خون تھا؟گاندھی جی نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر ملک تقسیم ہوگا تو میری لاشوں پر ہوگا اور یہی کہہ کر وہ نواکھالی سے چلے بھی تھے تو کیوں نہ آج ہی پاکستان پر حملہ کرکے اس کو بھارت کے ساتھ ملا لیا جائے اور اگر سچ میں مظلوموں سے ہمدردی ہے تو پھر سوامی وویکا نند کی سوچ پر حملہ کیوں؟ جنہوں نے شیکاگو کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ میں ایسے دیش سے آیا ہوں جس نے سبھی دھرموں کے ستائے ہوئے لوگوں کو پناہ دی ہے۔

آپ تو ماشاء اللہ قانون کے طالب علم ہیں
اس سے صاف ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔می لارڈ!آخر بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کی ہی اقلیتوں سے ہمدردی کیوں؟ سری لنکا، بھوٹان، نیپال، چین، تبت اور میانمار میں بسنے والی اقلیتوں سے ہمدردی کیوں نہیں؟ می لارڈ مظالم کیلئے 2014ہی ڈیڈ لائن کیوں؟ جن لوگوں پر 2014کے بعد ظلم ہوگا کیا ان کو رام بھروسے چھوڑ دیا جائے گا؟آپ تو ماشاء اللہ قانون کے طالب علم ہیں۔کیا یہ قانون اپنے آپ ہی میں متضاد نہیں ہے؟ اس لئے میری آپ سے التجا ہے کہ آپ کھلے من سے وچار فرمائیں۔اپنی بصیرت کو بروئے کار لائیں اور مجھے یہ بتائیں کہ اگر سی اے اے این آرسی اور این پی آر کے ذریعہ کسی بھی محب وطن کے ساتھ زیادتی ہوئی تو کیا آپ بھی اس کی آہ کا شکار نہیں ہوں گے؟

جس دن اللہ کی ذات گرامی کا استفسار ہوگا

 جس دن اللہ کی ذات گرامی کا استفسار ہوگا ”لمن الملک الیوم“ جواب ملے گا ”للہ الواحد القہار“ سوچیں اگر کسی مظلوم کی آہ کے شکار شخص پر قہار کا قہر ہوا تو اس کا کیا حال ہوگا؟ ظلم ظلم ہے اور یہ سراپا تاریکی ہے۔ آپ نیک انسان ہیں، شریف النسب بھی ہیں اور صاحب حسب بھی۔ لکم دینکم ولی دین کے فلسفے کو سمجھتے بھی ہیں۔ کیا ہمارے وزیرداخلہ نے یہ نہیں کہا کہ کیب کے بعد این آرسی آئے گا۔ دراندازوں (مسلمانوں) کو چن چن کر نکالا جائے گا۔کتنے لوگوں کے پاس اپنے اجداد کی جائے پیدائش کا ثبوت ہوگا جب کہ سیلاب میں لاکھوں لوگ خود کو نہیں بچاپاتے تو کاغذ کیسے بچاپائیں گے؟

اب تو پوہا کھانے والے بھی بنگلہ دیشی بتا دیتے گئے ہیں

اب تو پوہا کھانے والے بھی بنگلہ دیشی بتا دیتے گئے ہیں۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ این آرسی پر چرچہ نہیں ہوئی تو پھر صدارتی خطاب میں این آرسی کا تذکرہ کیا پاکستانی کابینہ کی منظوری سے ہوا؟ می لارڈ مجھے نہیں معلوم آپ سمجھنا نہیں چاہتے یا رائے سینا ہل کے سفر کیلئے انجان بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں جنہوں نے امبیڈکر کو ماتھے پھیرو(متشدد، کٹر) اور بودھوں کو راشٹر دروہی(غدار وطن) کہا تو یہ آپ کا فیصلہ ہے،لیکن ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے بھارت کا سیکولر آئین بنایا۔ ہم سوامی وویکا نند کو ماننے والے لوگ ہیں جنہوں نے کثرت میں وحدت کا فلسفہ دیا۔

ہم اٹل جی کی اس سوچ سے اتفاق رکھتے ہیں

 ہم اٹل جی کی اس سوچ سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اگر بھارت سیکولر نہیں ہے تو پھر بھارت بالکل بھارت نہیں ہے اور ہم آنند رامائن میں موجود اس کتے کی کہانی پر یقین کرنے والے لوگ ہیں جس کتے نے لنکا فتح ہونے،رام راجیہ کی استھاپنا ہونے اور رام جی کے ایودھیا لوٹنے کے بعد ان سے شکایت کی تھی کہ مجھے فلاں پجاری نے بنا کسی وجہ کے مارا ہے اور انکوائری میں جب رام جی نے اس کتے کو بے قصور پایا اور کتے نے پجاری کیلئے سزا کے طور پر مہنت کے عہدہ کی تجویز پیش کی تو رام جی کے حواریوں نے پوچھا کہ بھائی تم سزا دلوانے آئے تھے یا پرموشن کروانے تو اس پر کتے نے کہا کہ یہ گرچہ آپ کو پرموشن لگ رہا ہے لیکن یہ سزا ہے۔جب انسان کو اقتدار اعلیٰ ملتا تو وہ بے لگام ہوجاتا ہے۔میں بھی پچھلے جنم میں پاک روح تھا، لیکن اقتدار اعلیٰ نے مجھ سے ایسی غلطی کرائی کہ میرا یہ جنم کتوں والا ہے۔

 

میں بھی چاہتاہوں کہ پجاری کا حشر مہنت بننے کے بعد اس کا اگلا جنم کتے والاہو

 میں بھی چاہتاہوں کہ پجاری کا حشر مہنت بننے کے بعد اس کا اگلا جنم کتے والاہو۔ می لارڈ! بھارت کو دوسرا پاکستان ہونے سے بچایئے آپ کہتے ہیں کہ یہ سب شاہ بانو کے ایکشن کے بعد اس کا ری ایکشن ہے۔تو آپ ہی بتایئے بابری مسجد، 1992 کے فسادات پھر 1993سے لے کر2002کے فسادات اور مظفر نگر اس کے بعد سوبودھ سنگھ کا قتل،روہت ویمولاکی خودکشی۔ کتنے ایکشن اور ری ایکشن۔ می لارڈ!گاندھی جی کا قتل کس ایکشن کا ری ایکشن تھا۔

کچھ تو بولئے آپ تو ضمیر کی آواز پر بولتے ہیں

؟ اس وقت کون سا شاہ بانوتھا۔ شاہ بانوسے پہلے ان گنت فسادات کس ایکشن کا ری ایکشن تھا؟کچھ تو بولئے آپ تو ضمیر کی آواز پر بولتے ہیں تاکہ مستقبل کا مورخ عارف محمد خان کے ساتھ انصاف کرسکے اور ان پر یہ الزام عائد نہ ہو کہ انہوں نے ان لوگوں کا دامن آخر ی وقت میں تھام لیا تھا جو انگریزوں سے معافی مانگ کر بھی ویر بن گئے تھے۔


مضمون نگار وطن سماچار کے فاؤنڈنگ ایڈیٹر ہیں
رابطہ نمبر09711337827

0 comments

Leave a Reply